سنن نسائي
كتاب مناسك الحج— کتاب: حج کے احکام و مناسک
بَابُ : ذِكْرِ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ باب: صفا و مروہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 2973
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَابِرٌ ، قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ إِلَى الصَّفَا ، وَقَالَ : " نَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ " , ثُمَّ قَرَأَ : إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ سورة البقرة آية 158 .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفا کی طرف نکلے اور آپ نے فرمایا : ” ہم اسی سے شروع کریں گے جس سے اللہ تعالیٰ نے شروع کیا ہے ، پھر آپ نے «إن الصفا والمروة من شعائر اللہ» کی تلاوت کی “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´صفا و مروہ کا بیان۔`
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفا کی طرف نکلے اور آپ نے فرمایا: ” ہم اسی سے شروع کریں گے جس سے اللہ تعالیٰ نے شروع کیا ہے، پھر آپ نے «إن الصفا والمروة من شعائر اللہ» کی تلاوت کی۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2973]
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفا کی طرف نکلے اور آپ نے فرمایا: ” ہم اسی سے شروع کریں گے جس سے اللہ تعالیٰ نے شروع کیا ہے، پھر آپ نے «إن الصفا والمروة من شعائر اللہ» کی تلاوت کی۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2973]
اردو حاشہ: صفا سے سعی کی ابتدا متفق علیہ مسئلہ ہے۔ اس میں کوئی اختلاف نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2973 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 2972 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´صفا و مروہ کا بیان۔`
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جس وقت آپ مسجد (خانہ کعبہ) سے نکلے اور صفا کا ارادہ کر رہے تھے فرماتے سنا: ” ہم وہیں سے شروع کریں گے جہاں سے اللہ تعالیٰ نے شروع کیا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2972]
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جس وقت آپ مسجد (خانہ کعبہ) سے نکلے اور صفا کا ارادہ کر رہے تھے فرماتے سنا: ” ہم وہیں سے شروع کریں گے جہاں سے اللہ تعالیٰ نے شروع کیا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2972]
اردو حاشہ: اس وقت صفا مروہ مسجد سے باہر تھے۔ آج کل تو مسجد کی حدود کے اندر بلکہ بہت اندر آچکے ہیں۔ (باقی تفصیل کے لیے دیکھیے، حدیث: 2964)
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2972 سے ماخوذ ہے۔