سنن نسائي
كتاب مناسك الحج— کتاب: حج کے احکام و مناسک
بَابُ : الْقَوْلِ بَعْدَ رَكْعَتَىِ الطَّوَافِ باب: طواف کی دو رکعت پڑھنے کے بعد کیا کہے؟
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرٍ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ سَبْعًا : رَمَلَ ثَلَاثًا ، وَمَشَى أَرْبَعًا ، ثُمَّ قَرَأَ : وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى سورة البقرة آية 125 , فَصَلَّى سَجْدَتَيْنِ ، وَجَعَلَ الْمَقَامَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْكَعْبَةِ ، ثُمَّ اسْتَلَمَ الرُّكْنَ ، ثُمَّ خَرَجَ ، فَقَالَ : " إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَابْدَءُوا بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ " .
´جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف میں کعبہ کے سات پھیرے لگائے ، تین پھیروں میں رمل کیا اور چار پھیروں میں عام چال چلے ، پھر آیت کریمہ : «واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى» پڑھی اس کے بعد مقام ابراہیم کو اپنے اور خانہ کعبہ کے درمیان کر کے دو رکعت نماز پڑھی ۔ پھر آپ نے حجر اسود کا استلام کیا پھر نکلے اور آیت کریمہ : «إن الصفا والمروة من شعائر اللہ» ” صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں “ پڑھی تو جس سے اللہ تعالیٰ نے شروع کیا ، اسی سے تم بھی شروع کرو “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جس وقت آپ مسجد (خانہ کعبہ) سے نکلے اور صفا کا ارادہ کر رہے تھے فرماتے سنا: ” ہم وہیں سے شروع کریں گے جہاں سے اللہ تعالیٰ نے شروع کیا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2972]
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفا کی طرف نکلے اور آپ نے فرمایا: ” ہم اسی سے شروع کریں گے جس سے اللہ تعالیٰ نے شروع کیا ہے، پھر آپ نے «إن الصفا والمروة من شعائر اللہ» کی تلاوت کی۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2973]