حدیث نمبر: 2965
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرٍ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَافَ سَبْعًا : رَمَلَ ثَلَاثًا ، وَمَشَى أَرْبَعًا ، ثُمَّ قَرَأَ : وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى سورة البقرة آية 125 , فَصَلَّى سَجْدَتَيْنِ ، وَجَعَلَ الْمَقَامَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْكَعْبَةِ ، ثُمَّ اسْتَلَمَ الرُّكْنَ ، ثُمَّ خَرَجَ ، فَقَالَ : " إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَابْدَءُوا بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف میں کعبہ کے سات پھیرے لگائے ، تین پھیروں میں رمل کیا اور چار پھیروں میں عام چال چلے ، پھر آیت کریمہ : «واتخذوا من مقام إبراهيم مصلى» پڑھی اس کے بعد مقام ابراہیم کو اپنے اور خانہ کعبہ کے درمیان کر کے دو رکعت نماز پڑھی ۔ پھر آپ نے حجر اسود کا استلام کیا پھر نکلے اور آیت کریمہ : «إن الصفا والمروة من شعائر اللہ» ” صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں “ پڑھی تو جس سے اللہ تعالیٰ نے شروع کیا ، اسی سے تم بھی شروع کرو “ ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 2965
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظر ما قبلہ (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 862 | سنن نسائي: 2972 | سنن نسائي: 2973 | سنن نسائي: 2976 | سنن نسائي: 2977 | معجم صغير للطبراني: 433

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 2972 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´صفا و مروہ کا بیان۔`
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جس وقت آپ مسجد (خانہ کعبہ) سے نکلے اور صفا کا ارادہ کر رہے تھے فرماتے سنا: ہم وہیں سے شروع کریں گے جہاں سے اللہ تعالیٰ نے شروع کیا ہے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2972]
اردو حاشہ: اس وقت صفا مروہ مسجد سے باہر تھے۔ آج کل تو مسجد کی حدود کے اندر بلکہ بہت اندر آچکے ہیں۔ (باقی تفصیل کے لیے دیکھیے، حدیث: 2964)
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2972 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 2973 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´صفا و مروہ کا بیان۔`
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفا کی طرف نکلے اور آپ نے فرمایا: ہم اسی سے شروع کریں گے جس سے اللہ تعالیٰ نے شروع کیا ہے، پھر آپ نے «إن الصفا والمروة من شعائر اللہ» کی تلاوت کی۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2973]
اردو حاشہ: صفا سے سعی کی ابتدا متفق علیہ مسئلہ ہے۔ اس میں کوئی اختلاف نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2973 سے ماخوذ ہے۔