حدیث نمبر: 2955
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : " مَا تَرَكْتُ اسْتِلَامَ هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ مُنْذُ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَلِمُهُمَا الْيَمَانِيَ ، وَالْحَجَرَ فِي شِدَّةٍ وَلَا رَخَاءٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رکن یمانی اور حجر اسود کا استلام کرتے دیکھا ، میں نے ان دونوں رکنوں کا استلام نہیں چھوڑا ، نہ سختی میں اور نہ آسانی میں ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 2955
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الحج 57 (1606)، صحیح مسلم/الحج40 (1268)، (تحفة الأشراف: 8152)، مسند احمد (2/40)، سنن الدارمی/المناسک 25 (1880) (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´طواف میں دوسرے دونوں رکنوں کے نہ چھونے کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رکن یمانی اور حجر اسود کا استلام کرتے دیکھا، میں نے ان دونوں رکنوں کا استلام نہیں چھوڑا، نہ سختی میں اور نہ آسانی میں۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2955]
اردو حاشہ: متعلقہ مسئلے کی تفصیل کے لیے دیکھیے، حدیث نمبر 2918 اور 2949۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2955 سے ماخوذ ہے۔