حدیث نمبر: 2926
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا الشَّيْبَانِيُّ ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ طَاوُسٍ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : " أَقِلُّوا الْكَلَامَ فِي الطَّوَافِ ، فَإِنَّمَا أَنْتُمْ فِي الصَّلَاةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` طواف کے دوران باتیں کم کرو کیونکہ تم نماز میں ہو ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 2926
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد موقوف , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي، وانظر ما قبلہ (صحیح الإسناد)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´دوران طواف بات چیت کے جواز کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ طواف کے دوران باتیں کم کرو کیونکہ تم نماز میں ہو۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2926]
اردو حاشہ: اس روایت میں صحابی کا نام ذکر کر دیا گیا ہے جبکہ اوپر والی روایت میں ابہام تھا۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2926 سے ماخوذ ہے۔