حدیث نمبر: 2920
أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ خُشَيْشُ بْنُ أَصْرَمَ النَّسَائِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْبَيْتَ ، فَدَعَا فِي نَوَاحِيهِ كُلِّهَا ، وَلَمْ يُصَلِّ فِيهِ ، حَتَّى خَرَجَ مِنْهُ ، فَلَمَّا خَرَجَ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ فِي قُبُلِ الْكَعْبَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` مجھے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے خبر دی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے اندر گئے اور اس کے سبھی گوشوں میں ( جا جا کر ) دعا کی ، اور اس میں نماز نہیں پڑھی یہاں تک کہ آپ اس سے باہر آ گئے ، اور باہر آ کر آپ نے کعبہ کے سامنے دو رکعتیں پڑھیں ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 2920
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «صحیح مسلم/الحج 68 (1330)، (تحفة الأشراف: 96)، مسند احمد (5/201، 208) (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´کعبہ میں نماز پڑھنے کی جگہ کا بیان؟`
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ مجھے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما نے خبر دی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ کے اندر گئے اور اس کے سبھی گوشوں میں (جا جا کر) دعا کی، اور اس میں نماز نہیں پڑھی یہاں تک کہ آپ اس سے باہر آ گئے، اور باہر آ کر آپ نے کعبہ کے سامنے دو رکعتیں پڑھیں۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2920]
اردو حاشہ: کعبے سے باہر عین سامنے نماز پڑھنا تو متنازع فیہ بات نہیں، اختلاف کعبے کے اندر نماز پڑھنے کے بارے میں ہے اور وہ پیچھے بیان ہو چکا ہے۔ (دیکھیے، حدیث:2912)
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2920 سے ماخوذ ہے۔