حدیث نمبر: 2917
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَطَاءٌ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ , أَنَّهُ دَخَلَ هُوَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَيْتَ ، فَأَمَرَ بِلَالًا ، فَأَجَافَ الْبَاب ، وَالْبَيْتُ إِذْ ذَاكَ عَلَى سِتَّةِ أَعْمِدَةٍ ، فَمَضَى ، حَتَّى إِذَا كَانَ بَيْنَ الْأُسْطُوَانَتَيْنِ اللَّتَيْنِ تَلِيَانِ بَاب الْكَعْبَةِ ، جَلَسَ ، فَحَمِدَ اللَّهَ ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، وَسَأَلَهُ وَاسْتَغْفَرَهُ ، ثُمَّ قَامَ ، حَتَّى أَتَى مَا اسْتَقْبَلَ مِنْ دُبُرِ الْكَعْبَةِ ، فَوَضَعَ وَجْهَهُ وَخَدَّهُ عَلَيْهِ ، وَحَمِدَ اللَّهَ ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، وَسَأَلَهُ ، وَاسْتَغْفَرَهُ ، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى كُلِّ رُكْنٍ مِنْ أَرْكَانِ الْكَعْبَةِ ، فَاسْتَقْبَلَهُ بِالتَّكْبِيرِ ، وَالتَّهْلِيلِ ، وَالتَّسْبِيحِ ، وَالثَّنَاءِ عَلَى اللَّهِ ، وَالْمَسْأَلَةِ ، وَالِاسْتِغْفَارِ ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ مُسْتَقْبِلَ وَجْهِ الْكَعْبَةِ ، ثُمَّ انْصَرَفَ ، فَقَالَ : " هَذِهِ الْقِبْلَةُ ، هَذِهِ الْقِبْلَةُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اسامہ بن زید رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` وہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ کے اندر گئے ، تو آپ نے بلال کو حکم دیا ، انہوں نے دروازہ بند کر دیا ۔ اس وقت خانہ کعبہ چھ ستونوں پر قائم تھا ، جب آپ اندر بڑھتے گئے یہاں تک کہ ان دونوں ستونوں کے درمیان پہنچ گئے جو کعبہ کے دروازے کے متصل ہیں ، تو بیٹھے ، اور اللہ کی حمد و ثنا بیان کی ، اور اس سے خیر کا سوال کیا اور مغفرت طلب کی ، پھر کھڑے ہوئے یہاں تک کہ کعبہ کی پشت کی طرف آئے جو سامنے تھی ، اس پر اپنا چہرہ اور رخسار رکھا ، اور اللہ کی حمد و ثنا بیان کی ، اور اس سے خیر کا سوال کیا ، اور مغفرت طلب کی ۔ پھر کعبہ کے ستونوں میں سے ہر ستون کے پاس آئے اور اس کی طرف منہ کر کے تکبیر ، تہلیل ، تسبیح کی ، اور اللہ کی ثنا بیان کی ، خیر کا سوال کیا اور گناہوں سے مغفرت طلب کی ، پھر باہر آئے ، اور کعبہ کی طرف رخ کر کے دو رکعت نماز پڑھی ، پھر پلٹے تو فرمایا : ” یہی قبلہ ہے یہی قبلہ ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 2917
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 2912 (صحیح الإسناد)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´بیت اللہ (کعبہ مشرفہ) کے اندر ذکر اور دعا کرنے کا بیان۔`
اسامہ بن زید رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ وہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ کے اندر گئے، تو آپ نے بلال کو حکم دیا، انہوں نے دروازہ بند کر دیا۔ اس وقت خانہ کعبہ چھ ستونوں پر قائم تھا، جب آپ اندر بڑھتے گئے یہاں تک کہ ان دونوں ستونوں کے درمیان پہنچ گئے جو کعبہ کے دروازے کے متصل ہیں، تو بیٹھے، اور اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، اور اس سے خیر کا سوال کیا اور مغفرت طلب کی، پھر کھڑے ہوئے یہاں تک کہ کعبہ کی پشت کی طرف آئے جو س۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2917]
اردو حاشہ: بلال کو حکم دیا پیچھے گزر چکا ہے کہ حضرت عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ نے دروازہ بند کیا تھا۔ دراصل آپ نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا ہوگا، پھر دونوں نے مل کر بند کر دیا ہوگا کیونکہ حضرت عثمان دربان تھے۔ یہ ان کا منصب تھا۔ چھ ستون ستونوں کی دو لائنیں تھیں۔ ہر لائن میں تین ستون تھے۔ باقی مباحث پیچھے گزر چکے ہیں۔ دیکھیے، حدیث نمبر 2912، 2916۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2917 سے ماخوذ ہے۔