حدیث نمبر: 2914
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الرِّبَاطِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ عَمَّتِهِ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، قَالَتْ : حَدَّثَتْنَا عَائِشَةُ ، قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا أَدْخُلُ الْبَيْتَ ؟ قَالَ : " ادْخُلِي الْحِجْرَ ، فَإِنَّهُ مِنْ الْبَيْتِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا میں بیت اللہ کے اندر داخل نہ ہوں ؟ آپ نے فرمایا : ” حطیم میں چلی جاؤ ، وہ بھی بیت اللہ کا حصہ ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 2914
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث «صحیح مسلم/الحج 17 (1211)، (تحفة الأشراف: 17852) (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´حطیم کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا میں بیت اللہ کے اندر داخل نہ ہوں؟ آپ نے فرمایا: حطیم میں چلی جاؤ، وہ بھی بیت اللہ کا حصہ ہے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2914]
اردو حاشہ: حجر اگرچہ بیت اللہ کا (اندرونی) حصہ ہے مگر صرف حجر کی طرف منہ کر کے نماز نہیں پڑھنی چاہیے کیونکہ بعض روایات کے مطابق اس میں کچھ بیرونی جگہ بھی شامل ہے، اس لیے بیت اللہ بھی سامنے ہونا چاہیے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2914 سے ماخوذ ہے۔