حدیث نمبر: 2911
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَيْفُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُجَاهِدًا , يَقُولُ : أُتِيَ ابْنُ عُمَرَ فِي مَنْزِلِهِ فَقِيلَ : هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ دَخَلَ الْكَعْبَةَ ، فَأَقْبَلْتُ ، فَأَجِدُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ خَرَجَ ، وَأَجِدُ بِلَالًا عَلَى الْبَاب : قَائِمًا ، فَقُلْتُ : يَا بِلَالُ , " أَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْكَعْبَةِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قُلْتُ : أَيْنَ ؟ قَالَ : مَا بَيْنَ هَاتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ خَرَجَ ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، فِي وَجْهِ الْكَعْبَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´مجاہد کہتے ہیں کہ` عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس ان کے گھر آ کر ان سے کہا گیا کہ ( دیکھئیے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( ابھی ابھی ) کعبہ کے اندر گئے ہیں ۔ ( ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں ) تو میں آیا وہاں پہنچ کر دیکھتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکل چکے ہیں ، اور بلال رضی اللہ عنہ دروازے پر کھڑے ہیں ۔ میں نے پوچھا : بلال ! کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کے اندر نماز پڑھی ہے ؟ انہوں نے کہا : جی ہاں ، میں نے پوچھا : کہاں ؟ انہوں نے کہا : ان دونوں ستونوں کے درمیان دو رکعتیں آپ نے پڑھیں ۔ پھر آپ وہاں سے نکلے ، اور کعبہ رخ ہو کر دو رکعتیں پڑھیں ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 2911
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح بخاري
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 693 (صحیح)»