حدیث نمبر: 2910
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا السَّائِبُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ , قَالَ : " دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَعْبَةَ وَدَنَا خُرُوجُهُ وَوَجَدْتُ شَيْئًا ، فَذَهَبْتُ وَجِئْتُ سَرِيعًا ، فَوَجَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَارِجًا ، فَسَأَلْتُ بِلَالًا " أَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْكَعْبَةِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، رَكْعَتَيْنِ بَيْنَ السَّارِيَتَيْنِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ کے اندر داخل ہوئے ، آپ کے نکلنے کا وقت نزدیک آیا تو میرے دل میں کچھ خیال آیا تو میں چلا اور جلدی سے آیا ، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نکلتے ہوئے پایا ۔ میں نے بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ میں نماز پڑھی ہے ؟ انہوں نے کہا : جی ہاں ، دو رکعتیں ، دونوں ستونوں کے درمیان ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 2910
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 693 (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´بیت اللہ (کعبہ) میں نماز پڑھنے کی جگہ کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ کے اندر داخل ہوئے، آپ کے نکلنے کا وقت نزدیک آیا تو میرے دل میں کچھ خیال آیا تو میں چلا اور جلدی سے آیا، تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نکلتے ہوئے پایا۔ میں نے بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ میں نماز پڑھی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، دو رکعتیں، دونوں ستونوں کے درمیان۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2910]
اردو حاشہ: امام مالک رحمہ اللہ بیت اللہ میں کسی قسم کی نماز پڑھنے کے قائل نہیں مگر یہ حدیث ان کے خلاف دلیل ہے۔ (باقی دلیل کے لیے دیکھیے، حدیث: 2908)
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2910 سے ماخوذ ہے۔