حدیث نمبر: 2907
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُخَرِّبُ الْكَعْبَةَ ذُو السُّوَيْقَتَيْنِ مِنْ الْحَبَشَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : خانہ کعبہ کو دو چھوٹی پنڈلیوں والے حبشی ویران کریں گے ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: یہ قیامت کے قریب ہو گا، جب روئے زمین پر کوئی اللہ اللہ کہنے والا باقی نہ رہے گا۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 2907
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الحج47 (1591)، 49 (1596)، صحیح مسلم/الفتن18 (2909)، (تحفة الأشراف: 13116)، مسند احمد (2/328، 417) (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´کعبہ کی تعمیر کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خانہ کعبہ کو دو چھوٹی پنڈلیوں والے حبشی ویران کریں گے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2907]
اردو حاشہ: شاید یہ وہ وقت ہوگا جب زمین پر کوئی اللہ اللہ کرنے والا نہ رہے گا اور سب لوگ کافر و فاجر ہوں گے۔ کیونکہ قیامت ایسے ہی لوگوں پر قائم ہوگی۔ کعبے کی (خاکم بدہن) تباہی اس دنیا کی تباہی کا الارم ہوگا۔ قرآن مجید میں اس کی طرف اشارہ موجود ہے: ﴿جَعَلَ اللَّهُ الْكَعْبَةَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ قِيَامًا لِلنَّاسِ والشَّهْرَ الحَرامَ والهَدْيَ والقَلائِدَ﴾ (المآئدۃ: 97) گویا بیت اللہ کی حرمت، زیارت اور حج دنیا کی بقا کا ذریعہ ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2907 سے ماخوذ ہے۔