حدیث نمبر: 2899
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ طَارِقِ بْنِ عَلْقَمَةَ أَخْبَرَهُ ، عَنْ أُمِّهِ , " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا جَاءَ مَكَانًا فِي دَارِ يَعْلَى اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَدَعَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبدالرحمٰن بن طارق کی والدہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب دار یعلیٰ کے مکان میں آ جاتے ۱؎ تو قبلہ کی طرف منہ کرتے ، اور دعا کرتے ۔

وضاحت:
۱؎: مکہ کے قریب جہاں سے بیت اللہ نظر آتا ہے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 2899
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (2007) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 343
تخریج حدیث «سنن ابی داود/الحج86 (2007)، (تحفة الأشراف: 18374)، مسند احمد (6/436، 437) (ضعیف) (اس کے راوی ’’ عبدالرحمن بن طارق‘‘ لین الحدیث ہیں)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 2007

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´بیت اللہ (کعبہ) کو دیکھ کر دعا کرنے کا بیان۔`
عبدالرحمٰن بن طارق کی والدہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب دار یعلیٰ کے مکان میں آ جاتے ۱؎ تو قبلہ کی طرف منہ کرتے، اور دعا کرتے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2899]
اردو حاشہ: یہ روایت بھی ضعیف ہے۔ بیت اللہ کو دیکھ کر کوئی دعا پڑھنا کسی صحیح مرفوع حدیث میں وارد نہیں، لیکن اگر کوئی دعا کرنا چاہتا ہے تو کر بھی سکتا ہے۔ نبیﷺ سے کوئی مخصوص دعا مروی نہیں۔ البتہ اس موقع پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ایک دعا حسن سند سے منقول ہے۔ اس کے الفاظ درج ذیل ہیں: [اللَّهمَّ أنت السَّلامُ ومنك السَّلامُ فحيِّنا ربَّنا بالسَّلامِ ] (سنن البیھقي: 5/ 73) مذکور الفاظ کے ساتھ دعا کرنا بہتر ہے۔ واللہ اعلم! ملاحظہ ہو: (مناسک الحج والعمرۃ للالبانی: ص 20)
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2899 سے ماخوذ ہے۔