حدیث نمبر: 2880
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ بَكَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرٌ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي سُحَيْمٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَغْزُو هَذَا الْبَيْتَ جَيْشٌ ، فَيُخْسَفُ بِهِمْ بِالْبَيْدَاءِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس گھر سے یعنی بیت اللہ سے لڑنے ایک لشکر آئے گا ۱؎ تو اسے بیداء میں دھنسا دیا جائے گا “ ۔

وضاحت:
۱؎: مدینہ کے قریب ایک میدان ہے جو اسی نام سے معروف ہے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 2880
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´حرم کی حرمت و تقدس کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس گھر سے یعنی بیت اللہ سے لڑنے ایک لشکر آئے گا ۱؎ تو اسے بیداء میں دھنسا دیا جائے گا۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2880]
اردو حاشہ: (1) بیداء سے مراد ایسا بنجر اور بے آباد مقام ہے جو مکہ اور مدینہ کے درمیان واقع ہے۔
(2) سابقہ زمانے میں بعض امراء کا حدود حرم میں جنگ وجدال کرنا درست نہیں تھا۔ البتہ اللہ تعالیٰ ان غلطیوں سے درگزر فرمائے، نیز ان کا مقصد بیت اللہ کی حرمت کی پامالی اور اس پر حملے کا پروگرام نہیں تھا۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2880 سے ماخوذ ہے۔