حدیث نمبر: 2871
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ فَضَالَةَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " دَخَلَ مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ ، وَعَلَى رَأْسِهِ الْمِغْفَرُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے سال مکہ میں داخل ہوئے اور آپ کے سر پر خود تھا ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 2871
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظر ما قبلہ (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 5808 | سنن ابن ماجه: 2805

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5808 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
5808. حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ فتح مکہ کے سال مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے جبکہ آپ کے سر مبارک پرخود تھا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5808]
حدیث حاشیہ: اس حدیث سے یہ نکلا کہ اگر حج یا عمرے کی نیت سے نہ ہو اور آدمی کسی کا م کاج یا تجارت کے لیے مکہ شریف میں جائے تو بغیر احرام کے بھی داخل ہو سکتا ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5808 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5808 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
5808. حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ فتح مکہ کے سال مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے جبکہ آپ کے سر مبارک پرخود تھا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5808]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مکہ مکرمہ میں احرام کے بغیر داخل ہونا بھی جائز ہے۔
احرام صرف اس وقت ضروری ہے جب حج یا عمرے کی نیت ہو۔
(2)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو آپ نے سیاہ عمامہ باندھا ہوا تھا۔
(سنن ابن ماجة، اللباس، حدیث: 3586)
اس کا جواب یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف اوقات میں دونوں، یعنی پگڑی اور خود باندھے ہوں گے، چنانچہ ممکن ہے جس وقت آپ داخل ہوئے ہوں اس وقت آپ کے سر مبارک پر خود ہو اور پھر اسے اتار کر سیاہ پگڑی پہن لی ہو کیونکہ ایک روایت میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کے دروازے پر سیاہ پگڑی پہنے ہوئے خطبہ دیا تھا۔
(سنن ابن ماجة، اللباس، حدیث: 3584)
ابن بطال نے کہا ہے کہ فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خود پہن کر داخل ہونا اس بات کی علامت ہے کہ آپ حالت جنگ میں داخل ہوئے تھے اور آپ محرم نہیں تھے۔
(عمدة القاري: 26/15)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5808 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 2805 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´اسلحہ کا بیان۔`
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن اس حال میں مکہ داخل ہوئے کہ آپ کے سر پر خود تھا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجهاد/حدیث: 2805]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
جنگ میں ہتھیاروں کا استعمال یا دشمن کے ہتھیاروں سے بچاؤ کی اشیاء کا استعمال تواکل کے منافی نہیں۔

(2)
مکہ مکرمہ حرم ہے جہاں جنگ اور قتال منع ہے۔
رسول اللہﷺ کو اللہ تعالی نے فتح مکہ کے دن جہاد کے لیے خاص طور پر اجازت دی تھی۔
جب مکہ فتح ہوگیا تو پابندی دوبارہ نافذ ہوگئی۔

(3)
رسول اللہ ﷺ نے اپنے زمانے میں رائج ہتھیار اور دفاعی اشیاء مثلاً: خود اور زرہ استعمال کیں۔
ہمیں جدید اشیاء استعمال کرنی چاہییں بلکہ خود ایجاد یا تیار کرنی چاہییں اس لیے جدید ترین ٹینک، آبدوزیں، بکتر بند گاڑیاں اور جنگی لباس مثلاً: ہیلمٹ، اندھیرے میں دیکھنے کے لیے چشمہ وغیرہ کا حصول تیاری اور استعمال شریعت کا تقاضا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2805 سے ماخوذ ہے۔