حدیث نمبر: 2869
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " دَخَلَ مَكَّةَ وَلِوَاؤُهُ أَبْيَضُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں ( یعنی فتح مکہ کے دن ) سفید جھنڈا لیے ہوئے داخل ہوئے ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 2869
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «سنن ابی داود/الجہاد76 (2592)، سنن الترمذی/الجہاد9 (1679)، سنن ابن ماجہ/الجہاد20 (2817)، (تحفة الأشراف: 2889) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 2592 | سنن ابن ماجه: 2817 | معجم صغير للطبراني: 599

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´جھنڈے کے ساتھ مکہ میں داخل ہونے کا بیان۔`
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں (یعنی فتح مکہ کے دن) سفید جھنڈا لیے ہوئے داخل ہوئے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2869]
اردو حاشہ: یہ فتح مکہ کی بات ہے، اس لیے جھنڈا ضروری تھا ورنہ حجۃ الوداع کے موقع پر کوئی جھنڈا وغیرہ نہ تھا۔ بعض روایات میں آپﷺ کا جھنڈا سیاہ بتلایا گیا ہے۔ یہ کوئی تعارض نہیں۔ لشکر کا بڑا جھنڈا سیاہ تھا اور آپ کا ذاتی جھنڈا سفید تھا۔ ویسے بھی جنگ میں کئی جھنڈے ہوتے ہیں۔ فتح مکہ میں بھی مہاجرین کا الگ جھنڈا تھا، انصار کا الگ۔ اسی طرح دوسرے گروہوں کے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2869 سے ماخوذ ہے۔