حدیث نمبر: 2851
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " احْتَجَمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ مِنْ وَثْءٍ كَانَ بِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک تکلیف کے باعث جو آپ کو لاحق تھی پچھنا لگوایا اور آپ محرم تھے ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 2851
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (3863) ابن ماجه (3082) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 343
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 2998)، مسند احمد (3/363)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الطب5 (3863)، سنن ابن ماجہ/الطب21 (3485) (تعلیقاً) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 3863 | سنن ابن ماجه: 3082

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´بیماری کے سبب محرم کے پچھنا لگوانے کا بیان۔`
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک تکلیف کے باعث جو آپ کو لاحق تھی پچھنا لگوایا اور آپ محرم تھے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2851]
اردو حاشہ: (1) مذکورہ روایت کو محقق کتاب نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے صحیح لغیرہ قرار دیا ہے اور راجح رائے انھی کی ہے۔ دیکھیے: (الموسوعة الحدیثیة مسند الإمام احمد: 23/ 182) بنا بریں بوقت ضرورت سینگی لگوائی جا سکتی ہے۔ دیگر صحیح روایات سے بھی یہی بات ثابت ہوتی ہے۔
(2) "موچ" یعنی ہڈی کو نقصان نہ پہنچے، گوشت اور پٹھوں کو تکلیف ہو یا ہڈی کو چوٹ تو لگے مگر وہ ٹوٹنے سے بچ جائے۔ سینگی کے جواز وغیرہ کی بحث اوپر حدیث: 2848 میں گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2851 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 3863 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´رگ کاٹنے (فصد کھولنے) اور پچھنا لگانے کی جگہ کا بیان۔`
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس درد کی وجہ سے جو آپ کو تھا اپنی سرین پر پچھنے لگوائے۔ [سنن ابي داود/كتاب الطب /حدیث: 3863]
فوائد ومسائل:
بغرض علاج اگر ستر کا کوئی حصہ کھولنا پڑے تو جا ئز ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3863 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3082 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´محرم کا پچھنا لگوانا۔`
جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام کی حالت میں ایک درد کی وجہ سے جو آپ کو ہوا تھا، پچھنے لگوائے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 3082]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
احرام کی حالت میں سینگی لگوانا جائز ہے۔

(2)
اگر سینگی لگوانے میں بال اتروانے پڑیں تو فدیہ دے دیا جائے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3082 سے ماخوذ ہے۔