سنن نسائي
كتاب مناسك الحج— کتاب: حج کے احکام و مناسک
بَابُ : مَا لاَ يَجُوزُ لِلْمُحْرِمِ أَكْلُهُ مِنَ الصَّيْدِ باب: کس طرح کا شکار کھانا محرم کے لیے ناجائز ہے؟
حدیث نمبر: 2826
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ الْمَعْنِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ حَبِيبٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ الْحَكَمِ ، وَحَبِيبٌ وَهُوَ ابْنُ أَبِي ثَابِتٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , أَنَّ الصَّعْبَ بْنَ جَثَّامَةَ " أَهْدَى لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِمَارًا وَهُوَ مُحْرِمٌ فَرَدَّهُ عَلَيْهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک نیل گائے ہدیہ میں بھیجا اور آپ احرام باندھے ہوئے تھے ، تو آپ نے اسے انہیں واپس کر دیا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 841 کی شرح از الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری ✍️
´(نکاح کے متعلق احادیث)`
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک کنواری لڑکی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے بتایا کہ اس کے والد نے اس کا نکاح کر دیا ہے جب کہ اسے ناپسند تھا (یہ سن کر) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لڑکی کو اختیار دے دیا۔ اسے احمد، ابوداؤد اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور اس حدیث کو مرسل ہونے کی بنا پر معلول کہا گیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 841»
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک کنواری لڑکی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے بتایا کہ اس کے والد نے اس کا نکاح کر دیا ہے جب کہ اسے ناپسند تھا (یہ سن کر) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لڑکی کو اختیار دے دیا۔ اسے احمد، ابوداؤد اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور اس حدیث کو مرسل ہونے کی بنا پر معلول کہا گیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 841»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، النكاح، باب في البكر يزوجها أبوها ولا يستأمرها، حديث:2096، وابن ماجه، النكاح، حديث:1875، وأحمد:1 /273.»
تشریح: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ باپ اگرچہ ولی ہے لیکن اگر وہ لڑ کی کے اذن اور مشورے کے بغیر اس کا نکاح کرتا ہے تو لڑکی کو شرعاً اختیار حاصل ہے کہ اگر وہ اس نکاح سے ناخوش ہے تو اسے فسخ کر دے۔
«أخرجه أبوداود، النكاح، باب في البكر يزوجها أبوها ولا يستأمرها، حديث:2096، وابن ماجه، النكاح، حديث:1875، وأحمد:1 /273.»
تشریح: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ باپ اگرچہ ولی ہے لیکن اگر وہ لڑ کی کے اذن اور مشورے کے بغیر اس کا نکاح کرتا ہے تو لڑکی کو شرعاً اختیار حاصل ہے کہ اگر وہ اس نکاح سے ناخوش ہے تو اسے فسخ کر دے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 841 سے ماخوذ ہے۔