حدیث نمبر: 2809
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، عَنْ عَبْدَةَ ، عَنْ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، قَالَ : قَالَ : سُرَاقَةُ : تَمَتَّعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَمَتَّعْنَا مَعَهُ ، فَقُلْنَا : أَلَنَا خَاصَّةً أَمْ لِأَبَدٍ ؟ قَالَ : " بَلْ لِأَبَدٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´سراقہ بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج تمتع کیا ۱؎ اور ہم سب نے بھی آپ کے ساتھ تمتع کیا ۔ تو ہم نے عرض کیا : کیا یہ ہمارے لیے خاص ہے یا ہمیشہ کے لیے ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” نہیں ، بلکہ یہ ہمیشہ کے لیے ہے “ ۔

وضاحت:
۱؎: یہاں اصطلاحی تمتع مراد نہیں لغوی تمتع مراد ہے، مطلب یہ ہے کہ عمرہ اور حج دونوں کا آپ نے فائدہ اٹھایا کیونکہ صحیح روایتوں سے آپ کا قارن ہونا ثابت ہے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 2809
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح الإسناد , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 2808 (صحیح الإسناد)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 2977 | سنن نسائي: 2808