حدیث نمبر: 2774
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَفْلَحُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَشْعَرَ بُدْنَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اونٹ کا اشعار کیا ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 2774
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الحج 106 (1696) 108 (1699)، صحیح مسلم/الحج64 (1321)، سنن ابی داود/الحج 17 (1757)، سنن ابن ماجہ/الحج 96 (3098)، (تحفة الأشراف: 17433)، حصحیح مسلم/786، ویأتی عند المؤلف فی68 (برقم 2785) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 1757 | سنن ابن ماجه: 3098

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 1757 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´ہدی بھیج کر خود مقیم رہنے کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے اپنے ہاتھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی کے لیے قلادے بٹے پھر آپ نے انہیں اشعار کیا اور قلادہ ۱؎ پہنایا پھر انہیں بیت اللہ کی طرف بھیج دیا اور خود مکہ میں مقیم رہے اور کوئی چیز جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے حلال تھی آپ پر حرام نہیں ہوئی ۲؎۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1757]
1757. اردو حاشیہ: کوئی شخص حرم کی طرف قربانی بھیجے اور خود نہ جائے تو وہ حلال ہی رہتا ہے۔ احرام کے کوئی احکام اس پر عائد نہیں ہوتے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1757 سے ماخوذ ہے۔