سنن نسائي
كتاب مناسك الحج— کتاب: حج کے احکام و مناسک
بَابُ : كَيْفَ يَقُولُ إِذَا اشْتَرَطَ باب: جب شرط لگائے تو کس طرح کہے؟
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ يَزِيدَ الْأَحْوَلُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِلَالُ بْنُ خَبَاب : ، قَالَ : سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ , عَنِ الرَّجُلِ يَحُجُّ يَشْتَرِطُ ؟ قَالَ : الشَّرْطُ بَيْنَ النَّاسِ ، فَحَدَّثْتُهُ حَدِيثَهُ يَعْنِي عِكْرِمَةَ ، فَحَدَّثَنِي عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ ضُبَاعَةَ بِنْتَ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ , أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ فَكَيْفَ أَقُولُ ؟ قَالَ : " قُولِي : لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ وَمَحِلِّي مِنَ الْأَرْضِ حَيْثُ تَحْبِسُنِي ، فَإِنَّ لَكِ عَلَى رَبِّكِ مَا اسْتَثْنَيْتِ " .
´ہلال بن خباب کہتے ہیں کہ` میں نے سعید بن جبیر سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جو مشروط حج کر رہا ہو تو انہوں نے کہا : یہ شرط بھی اس طرح ہے جیسے لوگوں کے درمیان اور شرطیں ہوتی ہیں ۲؎ تو میں نے ان سے ان کی یعنی عکرمہ کی حدیث بیان کی ، تو انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں حج کرنا چاہتی ہوں ، تو کیسے کہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کہو : «لبيك اللہم لبيك ومحلي من الأرض حيث تحبسني» ” حاضر ہوں ، اے اللہ ! حاضر ہوں ، جہاں تو مجھے روک دے ، وہیں میں حلال ہو جاؤں گی “ ، کیونکہ تو نے جو شرط کی ہے وہ تیرے رب کے اوپر ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ہلال بن خباب کہتے ہیں کہ میں نے سعید بن جبیر سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جو مشروط حج کر رہا ہو تو انہوں نے کہا: یہ شرط بھی اس طرح ہے جیسے لوگوں کے درمیان اور شرطیں ہوتی ہیں ۲؎ تو میں نے ان سے ان کی یعنی عکرمہ کی حدیث بیان کی، تو انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا: اللہ کے رسول! میں حج کرنا چاہتی ہوں، تو کیسے کہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2767]
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ضباعہ بنت زبیر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: اللہ کے رسول! میں حج کا ارادہ رکھتی ہوں، تو کیا میں شرط لگا سکتی ہوں؟ (کہ اگر کوئی عذر شرعی لاحق ہوا تو احرام کھول دوں گی) آپ نے فرمایا: " ہاں، تو انہوں نے پوچھا: میں کیسے کہوں؟ آپ نے فرمایا: «لبيك اللهم لبيك لبيك محلي من الأرض حيث تحبسني» " حاضر ہوں اے اللہ حاضر ہوں حاضر ہوں، میرے احرام کھولنے کی جگہ وہ ہے جہاں تو مجھے روک دے۔" [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 941]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہنے لگیں: اللہ کے رسول! میں حج میں شرط لگانا چاہتی ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " ہاں، (لگا سکتی ہو) "، انہوں نے کہا: تو میں کیسے کہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہو! «لبيك اللهم لبيك، ومحلي من الأرض حيث حبستني» " حاضر ہوں اے اللہ حاضر ہوں، اور میرے احرام کھولنے کی جگہ وہی ہے جہاں تو مجھے روک دے۔" [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1776]
➋ اگر انسان کوکوئی ایسامرض لاحق ہو جوسفر اور اعمال حج کے لیے رکاوٹ بن سکتا ہو تو مندرجہ ذیل بالا اندازہ میں شرط کرکے احرام باندھ سکتا ہے اور جہاں رکاوٹ ہو جائے حلال ہو سکتاہے اور دوبارہ اس حج یاعمرے کی قضا لازم نہ ہوگی۔ تاہم صاحب استطاعت کے لیے قضا ضروری ہوگی۔واللہ اعلم۔
➌ سیدہ ضباعہ بنت زبیر نے یہ شرط لگائی تھی مگر رکاوٹ پیش نہ آئی تھی اور انہون نے حج پورا کر لیا تھا۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہنے لگیں: میں ایک بھاری بھر کم عورت ہوں، اور میں حج کا ارادہ بھی رکھتی ہوں، تو میں تلبیہ کیسے پکاروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " تم تلبیہ پکارو اور (اللہ سے) شرط کر لو کہ جہاں تو مجھے روکے گا، میں وہیں حلال ہو جاؤں گی " ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المناسك/حدیث: 2938]
فوائد ومسائل: (1)
بیمار آدمی حج یا عمرے کی نیت سے سفر کرسکتا ہےاگرچہ بیماری میں اضافے کا خوف ہو۔
(2)
اگر مرض کی وجہ سے یہ خطرہ ہو کہ سفر میں رکاوٹ پیش آجائے گی تو احرام باندھتے وقت مشروط احرام باندھا جائے یعنی یہ کہا جائے کہ اے اللہ! اگر رکاوٹ پیش آگئی تو میں وہیں احرام کھول دوں گا۔
(3)
مشروط احرام باندھ کر کیا ہوا حج یا عمرہ اگر پورا ہوجائے تو یہ عام حج اور عمرے کی طرح ہے اس کے ثواب میں کمی نہیں آئے گی۔
(4)
مشروط احرام کے بعد اگر حج یا عمرہ مکمل کیے بغیر احرام کھول کر ارادہ ختم کرنا پڑجائے تو کوئی کفارہ لازم نہیں آئےگا نہ دم لازم ہوگا نہ صدقہ وغیرہ۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ضباعہ رضی اللہ عنہ نے حج کا ارادہ کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ شرط کر لیں ۱؎ تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے ایسا ہی کیا۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2766]
(2) حدیث حج کے متعلق ہے لیکن عمرے کا حکم بھی یہی ہے۔
(3) اس حدیث میں عذر بیماری کا ہے۔ لیکن دوسرے اعذار کا حکم بھی یہی ہے۔
(4) اگر قربانی کا جانور ساتھ ہو تو وہیں ذبح کر دیا جائے گا، خواہ حل ہو یا حرم۔