أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَرْمَلَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ , يَقُولُ : حَجَّ عَلِيٌّ , وَعُثْمَانُ فَلَمَّا كُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ " نَهَى عُثْمَانُ عَنِ التَّمَتُّعِ " , فَقَالَ عَلِيٌّ : " إِذَا رَأَيْتُمُوهُ قَدِ ارْتَحَلَ فَارْتَحِلُوا فَلَبَّى عَلِيٌّ وَأَصْحَابُهُ بِالْعُمْرَةِ ، فَلَمْ يَنْهَهُمْ عُثْمَانُ " , فَقَالَ عَلِيٌّ : " أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّكَ تَنْهَى عَنِ التَّمَتُّعِ ؟ " قَالَ : " بَلَى " قَالَ لَهُ عَلِيٌّ : " أَلَمْ تَسْمَعْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَمَتَّعَ ؟ " قَالَ : " بَلَى " .
´سعید بن مسیب کہتے ہیں :` علی اور عثمان رضی اللہ عنہما نے حج کیا تو جب ہم راستے میں تھے تو عثمان رضی اللہ عنہ نے تمتع سے منع کیا ، علی رضی اللہ عنہ نے کہا : جب تم لوگ انہیں دیکھو کہ وہ ( عثمان ) کوچ کر گئے ہیں تو تم لوگ بھی کوچ کرو ، علی رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں نے عمرہ کا تلبیہ پکارا ( یعنی تمتع کیا ) تو عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں منع نہیں کیا ، علی رضی اللہ عنہ نے کہا : کیا مجھے یہ اطلاع نہیں دی گئی ہے کہ آپ تمتع سے روکتے ہیں ؟ انہوں نے کہا : کیوں نہیں ( صحیح اطلاع دی ہے ) تو علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : کیا آپ نے سنا نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمتع کیا ہے ؟ انہوں نے کہا : کیوں نہیں ، ضرور سنا ہے ۱؎ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
سعید بن مسیب کہتے ہیں: علی اور عثمان رضی اللہ عنہما نے حج کیا تو جب ہم راستے میں تھے تو عثمان رضی اللہ عنہ نے تمتع سے منع کیا، علی رضی اللہ عنہ نے کہا: جب تم لوگ انہیں دیکھو کہ وہ (عثمان) کوچ کر گئے ہیں تو تم لوگ بھی کوچ کرو، علی رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں نے عمرہ کا تلبیہ پکارا (یعنی تمتع کیا) تو عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں منع نہیں کیا، علی رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا مجھے یہ اطلاع نہیں دی گئی ہے کہ آپ تمتع سے روکتے ہیں؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں (صحیح اطلاع د۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2734]