حدیث نمبر: 2729
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَاسِعٍ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ لِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ : " تَمَتَّعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : إِسْمَاعِيل بْنُ مُسْلِمٍ ثَلَاثَةٌ هَذَا أَحَدُهُمْ لَا بَأْسَ بِهِ , وَإِسْمَاعِيل بْنُ مُسْلِمٍ شَيْخٌ يَرْوِي عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ لَا بَأْسَ بِهِ , وَإِسْمَاعِيل بْنُ مُسْلِمٍ يَرْوِي عَنْ الزُّهْرِيِّ ، وَالْحَسَنُ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´مطرف بن عبداللہ کہتے ہیں کہ` مجھ سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے کہا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( حج ) تمتع کیا ، ابوعبدالرحمٰن ( نسائی ) کہتے ہیں کہ اسماعیل بن مسلم نام کے تین لوگ ہیں ، یہ اسماعیل بن مسلم ( جو اس حدیث کے ایک راوی ہیں ) انہیں تینوں میں سے ایک ہیں ، ان سے روایت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور ( دوسرے ) اسماعیل بن مسلم ایک شیخ ہیں جو ابوالطفیل سے روایت کرتے ہیں ان سے بھی حدیث لینے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ اور تیسرے اسماعیل بن مسلم ہیں جو زہری اور حسن سے روایت کرتے ہیں یہ متروک الحدیث ہیں ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 2729
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «صحیح مسلم/الحج 23 (1226)، (تحفة الأشراف: 10853) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 4518 | صحيح مسلم: 1226 | سنن نسائي: 2727 | سنن نسائي: 2728 | سنن نسائي: 2740

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´حج قِران کا بیان۔`
مطرف بن عبداللہ کہتے ہیں کہ مجھ سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے کہا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (حج) تمتع کیا، ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں کہ اسماعیل بن مسلم نام کے تین لوگ ہیں، یہ اسماعیل بن مسلم (جو اس حدیث کے ایک راوی ہیں) انہیں تینوں میں سے ایک ہیں، ان سے روایت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور (دوسرے) اسماعیل بن مسلم ایک شیخ ہیں جو ابوالطفیل سے روایت کرتے ہیں ان سے بھی حدیث لینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اور تیسرے اسماعیل بن مسلم ہیں جو زہر [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2729]
اردو حاشہ: اکثر صحابہ نے رسول اللہﷺ کے حکم سے تمتع کیا تھا۔ خود آپ نے قران فرمایا تھا، لہٰذا دونوں جائز ہیں۔ البتہ اس بات میں اختلاف ہے کہ ان میں سے افضل کون سا طریقہ ہے۔ (تفصیل ان شاء اللہ آگے آئے گی)
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2729 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 4518 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
4518. حضرت عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: حج تمتع کی آیت تو کتاب اللہ میں نازل ہوئی اور ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ حج تمتع کیا۔ قرآن کریم میں اس کی حرمت نازل نہیں ہوئی اور نہ مرتے دم تک آپ ﷺ نے اس سے منع فرمایا۔ اب جو شخص اپنی رائے سے جو چاہے کہتا رہے۔ محمد (امام بخاری ؒ) کہتے ہیں: کہا جاتا ہے کہ اس سے مراد حضرت عمر ؓ ہیں (کیونکہ ان کی رائے حج تمتع کے خلاف تھی)۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:4518]
حدیث حاشیہ: ایک صاحب سے مراد حضرت عمرؓ ہیں، جن کی رائے تمتع کے خلاف تھی۔
حضرت عمران بن حصینؓ نے حضرت عمر ؓ کے اس خیال کو ان کی رائے قرار دیا اور قرآن وحدیث کے خلاف اسے تسلیم نہیں کیا۔
اس سے مقلدین کو سبق لینا چاہئیے۔
جب حضرت عمرؓ کی رائے جو خلفائے راشدین میں سے ہیں قرآن وحدیث کے خلاف تسلیم کے لائق نہ ٹھہری تو وہ دوسرے مجتہدین کس گنتی وشمار میں ہیں۔
ان کی رائے جو حدیث کے خلاف ہو تسلیم کے قابل نہیں ہے۔
خود ان ہی نے ایسی وصیت فرمائی ہے۔
لفظ متعہ سے حج تمتع مراد ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4518 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 4518 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
4518. حضرت عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: حج تمتع کی آیت تو کتاب اللہ میں نازل ہوئی اور ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ حج تمتع کیا۔ قرآن کریم میں اس کی حرمت نازل نہیں ہوئی اور نہ مرتے دم تک آپ ﷺ نے اس سے منع فرمایا۔ اب جو شخص اپنی رائے سے جو چاہے کہتا رہے۔ محمد (امام بخاری ؒ) کہتے ہیں: کہا جاتا ہے کہ اس سے مراد حضرت عمر ؓ ہیں (کیونکہ ان کی رائے حج تمتع کے خلاف تھی)۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:4518]
حدیث حاشیہ:

حج کی تین قسمیں ہیں: الف۔
افراد: صرف حج کی نیت سے احرام باندھا جائے۔
ب۔
قرآن: حج وعمرہ دونوں کی ایک ساتھ نیت کرکے احرام باندھا جائے۔
ج۔
تمتع: اس میں بھی حج وعمرہ دونوں کی نیت ہوتی ہے لیکن پہلے صرف عمرہ کیا جاتا ہے، اس کے بعد آٹھ ذوالحج کو حج کا احرام باندھا جاتا ہے۔
حج قران اور حج تمتع میں ایک ہدی بھی قربانی دینا ہوتی ہے۔
حضرت عمران حج تمتع سے متعلق اس آیت کا حوالہ دیتے ہیں۔

حضرت عمرؓحج تمتع سے منع کرتے تھے۔
اس کی وجہ اس کا حرام ہونا نہیں بلکہ ان کے پیش نظر یہ مصلحت تھی کہ لوگ ایک ہی سفر میں حج اور عمرہ ادا کرکے خانہ کعبہ کو چھوڑ کر نہ جائیں بلکہ حج اور عمرے کے لیے الگ الگ سفرکرکے برابر بیت اللہ میں آتے رہیں۔
چونکہ آپ کا یہ موقف کتاب وسنت کے خلاف تھا، اس لیے حضرت عمران بن حصین ؓ نے اس موقف کو ان کی ذاتی رائے قراردیا اور اسے تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔
اس سے ان لوگوں کو سبق لینا چاہیے جو کسی خاص امام کی تقلید کو ضروری قرار دیتے ہیں، جب خلیفہ راشد حضرت عمرؓ کی رائے مطلقاً قابل تسلیم نہیں تو دوسرے مجتہدین کس شمار میں ہیں؟ حالانکہ خود مجتہدین نے وصیت فرمائی ہے کہ کتاب وسنت کے خلاف ہماری رائے کو تسلیم نہ کیا جائے۔
واللہ المستعان۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4518 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 2728 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´حج قِران کا بیان۔`
عمران رضی الله عنہ سے روایت کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرہ دونوں کو ایک ساتھ جمع کیا پھر اس سلسلے میں کوئی آیت نازل نہیں ہوئی اور نہ ہی ان دونوں کو جمع کرنے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے روکا، لیکن ایک شخص نے ان دونوں کے بارے میں اپنی رائے سے جو چاہا کہا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2728]
اردو حاشہ: (1) ایک شخص سے مراد حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہیں کیونکہ وہ اس صورت سے روکا کرتے تھے۔ باقی بالتبع آتے ہیں۔
(2) یہ حدیث دلیل ہے کہ قرآن کا حکم حدیث سے منسوخ ہو سکتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2728 سے ماخوذ ہے۔