حدیث نمبر: 2722
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاق ، قَالَ : أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ . ح وَأَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي حَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، وَغَيْرِهِ , عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ يُقَالُ لَهُ شَقِيقُ بْنُ سَلَمَةَ أَبُو وَائِلٍ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي تَغْلِبَ ، يُقَالُ لَهُ الصُّبَيُّ بْنُ مَعْبَدٍ وَكَانَ نَصْرَانِيًّا فَأَسْلَمَ ، فَأَقْبَلَ فِي أَوَّلِ مَا حَجَّ فَلَبَّى بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ جَمِيعًا ، فَهُوَ كَذَلِكَ يُلَبِّي بِهِمَا جَمِيعًا ، فَمَرَّ عَلَى سَلْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ ، وَزَيْدِ بْنِ صُوحَانَ ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا : لَأَنْتَ أَضَلُّ مِنْ جَمَلِكَ هَذَا ، فَقَالَ الصُّبَيُّ فَلَمْ يَزَلْ فِي نَفْسِي حَتَّى لَقِيتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : " هُدِيتَ لِسُنَّةِ نَبِيِّكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ، قَالَ شَقِيقٌ : وَكُنْتُ أَخْتَلِفُ أَنَا وَمَسْرُوقُ بْنُ الْأَجْدَعِ إِلَى الصُّبَيِّ بْنِ مَعْبَدٍ ، نَسْتَذْكِرُهُ فَلَقَدِ اخْتَلَفْنَا إِلَيْهِ مِرَارًا أَنَا وَمَسْرُوقُ بْنُ الْأَجْدَعِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´شقیق بن سلمہ ابووائل نامی ایک عراقی سے روایت ہے کہ` بنی تغلب کا ایک شخص جسے صبی بن معبد کہا جاتا تھا اور وہ نصرانی تھا مسلمان ہو گیا ، تو وہ اپنے حج کے شروع ہی میں حج اور عمرے دونوں کا ایک ساتھ تلبیہ پکارتے ہوئے چلا تو وہ اسی طرح کا تلبیہ پکارتا سلمان بن ربیعہ اور زید بن صوحان کے پاس سے گزرا ، تو ان دونوں میں سے ایک نے کہا : تم تو اپنے اونٹ سے بھی زیادہ گمراہ ہے ، صبی نے کہا : تو برابر یہ بات میرے دل میں رہی یہاں تک میری ملاقات عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو میں نے ان سے اس بات کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا : تمہیں اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کی ہدایت و توفیق ملی ہے ۔ شقیق ( جو اس حدیث کے راوی ہیں ) کہتے ہیں : میں اور مسروق بن اجدع دونوں صبی بن معبد رضی اللہ عنہ کے پاس آیا جایا کرتے تھے اور ان سے تبادلہ خیالات کرتے رہتے تھے تو میں اور مسروق بن اجدع دونوں متعدد بار ان کے پاس گئے ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 2722
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «انظر حدیث رقم: 2720 (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´حج قِران کا بیان۔`
شقیق بن سلمہ ابووائل نامی ایک عراقی سے روایت ہے کہ بنی تغلب کا ایک شخص جسے صبی بن معبد کہا جاتا تھا اور وہ نصرانی تھا مسلمان ہو گیا، تو وہ اپنے حج کے شروع ہی میں حج اور عمرے دونوں کا ایک ساتھ تلبیہ پکارتے ہوئے چلا تو وہ اسی طرح کا تلبیہ پکارتا سلمان بن ربیعہ اور زید بن صوحان کے پاس سے گزرا، تو ان دونوں میں سے ایک نے کہا: تم تو اپنے اونٹ سے بھی زیادہ گمراہ ہے، صبی نے کہا: تو برابر یہ بات میرے دل میں رہی یہاں تک میری ملاقات عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو میں نے ان۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2722]
اردو حاشہ: حج اور عمرے کی بیک وقت لبیک یوں ہوگی: لَبَّيْكَ بِحَجَّةٍ وعُمْرَةٍ۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2722 سے ماخوذ ہے۔