سنن نسائي
ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه— ابواب: جن چیزوں سے غسل واجب ہو جاتا ہے اور جن سے نہیں ہوتا
بَابُ : اسْتِخْدَامِ الْحَائِضِ باب: حائضہ سے کام لینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 272
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبِيدَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، ح وأَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قال : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قالت : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَاوِلِينِي الْخُمْرَةَ مِنَ الْمَسْجِدِ " ، قَالَتْ : إِنِّي حَائِضٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَتْ حَيْضَتُكِ فِي يَدِكِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مجھے مسجد سے چٹائی دے دو “ ، انہوں نے کہا : میں حائضہ ہوں ، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تیرا حیض تیرے ہاتھ میں نہیں ہے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: کہ وہ ہاتھ کو مسجد میں داخل کرنے سے مانع ہو۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´حائضہ سے کام لینے کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مجھے مسجد سے چٹائی دے دو “، انہوں نے کہا: میں حائضہ ہوں، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تیرا حیض تیرے ہاتھ میں نہیں ہے “ ۱؎۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 272]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مجھے مسجد سے چٹائی دے دو “، انہوں نے کہا: میں حائضہ ہوں، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تیرا حیض تیرے ہاتھ میں نہیں ہے “ ۱؎۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 272]
272۔ اردو حاشیہ: حیض اور جنابت کی حالت میں کسی اشد ضرورت کے تحت مسجد میں داخل ہوا جا سکتا ہے، البتہ اس حالت میں مسجد میں ٹھہرنا نادرست نہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ’’میں حائضہ عورت اور جنبی کے لیے مسجد کو حلال نہیں کرتا۔“ [سنن أبي داود، الطھارة، حدیث: 232]
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 272 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 384 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´حائضہ سے کام لینے کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مجھے مسجد سے چٹائی اٹھا دو “، میں نے کہا: میں حائضہ ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 384]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مجھے مسجد سے چٹائی اٹھا دو “، میں نے کہا: میں حائضہ ہوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الحيض والاستحاضة/حدیث: 384]
384۔ اردو حاشیہ: امام اسحاق بن ابراہیم اس حدیث میں امام نسائی رحمہ اللہ کے دوسرے استاد ہیں اور انہوں نے یہ حدیث جریر سے بیان فرمائی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ ہمیں یہ روایت جریر کے علاوہ ابومعاویہ نے بھی اعمش سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح بیان فرمائی ہے۔ مزید دیکھیے، حدیث: 274 کے فوائد و مسائل۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 384 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 261 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´حائضہ عورت مسجد سے کوئی چیز لے اس کے حکم کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”مسجد سے چٹائی اٹھا کر مجھے دو“، تو میں نے عرض کیا: میں حائضہ ہوں، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة /حدیث: 261]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”مسجد سے چٹائی اٹھا کر مجھے دو“، تو میں نے عرض کیا: میں حائضہ ہوں، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة /حدیث: 261]
261. اردو حاشیہ: اس حدیث کے الفاظ میں «من المسجد» کا تعلق دو کلمات سے ہو سکتا ہے «ناوليني» سے اس صورت میں ترجمہ ہو گا ’’مجھے مسجد میں سے اٹھا کر لا دو۔‘‘ دوسرا «’’قال‘‘» سے تو ترجمہ ہو گا: ’’آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں سے مجھے کہا کہ مجھے چٹائی پکڑا دو۔‘‘
مسئلہ: حائضہ یا جنبی اگر ہاتھ لمبا کر کے مسجد میں سے کوئی چیز اٹھائے یا رکھے تو جائز ہے۔
مسئلہ: حائضہ یا جنبی اگر ہاتھ لمبا کر کے مسجد میں سے کوئی چیز اٹھائے یا رکھے تو جائز ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 261 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 632 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´حائضہ عورت مسجد سے ہاتھ بڑھا کر کوئی چیز اٹھا لے تو اس کے حکم کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ” مجھے مسجد سے چٹائی اٹھا کر دے دو “، میں نے کہا: میں حائضہ ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تمہارے حیض کی گندگی تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 632]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ” مجھے مسجد سے چٹائی اٹھا کر دے دو “، میں نے کہا: میں حائضہ ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تمہارے حیض کی گندگی تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/أبواب التيمم/حدیث: 632]
اردو حاشہ: (1)
حیض ونفاس کی حالت میں عورت کے لیے مسجد میں داخل ہونا منع ہے۔
(2)
مسجد سے باہر کھڑے ہوکر مسجد سے ضرورت کی کوئی چیز اٹھا لینا یا مسجد میں کوئی چیز رکھ دینا مسجد میں داخل ہونے کی حکم میں نہیں بلکہ یہ جائز ہے۔
حیض ونفاس کی حالت میں عورت کے لیے مسجد میں داخل ہونا منع ہے۔
(2)
مسجد سے باہر کھڑے ہوکر مسجد سے ضرورت کی کوئی چیز اٹھا لینا یا مسجد میں کوئی چیز رکھ دینا مسجد میں داخل ہونے کی حکم میں نہیں بلکہ یہ جائز ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 632 سے ماخوذ ہے۔