سنن نسائي
ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه— ابواب: جن چیزوں سے غسل واجب ہو جاتا ہے اور جن سے نہیں ہوتا
بَابُ : مُمَاسَةِ الْجُنُبِ وَمُجَالَسَتِهِ باب: جنبی کو چھونے اور اس کے ساتھ بیٹھنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قال : أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قال : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا لَقِيَ الرَّجُلَ مِنْ أَصْحَابِهِ مَاسَحَهُ وَدَعَا لَهُ ، قَالَ : فَرَأَيْتُهُ يَوْمًا بُكْرَةً فَحِدْتُ عَنْهُ ثُمَّ أَتَيْتُهُ حِينَ ارْتَفَعَ النَّهَارُ ، فَقَالَ : إِنِّي رَأَيْتُكَ فَحِدْتَ عَنِّي ، فَقُلْتُ : إِنِّي كُنْتُ جُنُبًا فَخَشِيتُ أَنْ تَمَسَّنِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الْمُسْلِمَ لَا يَنْجُسُ " .
´حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے اصحاب میں سے کسی آدمی سے ملتے تو اس ( کے جسم ) پر ہاتھ پھیرتے ، اور اس کے لیے دعا کرتے تھے ، ایک دن صبح کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر میں کترا گیا ، پھر آپ کے پاس اس وقت آیا جب دن چڑھ آیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں نے تمہیں دیکھا تو تم مجھ سے کترا گئے ؟ “ میں نے عرض کیا : میں جنبی تھا ، مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں آپ مجھ پر ہاتھ نہ پھیریں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مسلمان ناپاک نہیں ہوتا “ ۱؎ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے اصحاب میں سے کسی آدمی سے ملتے تو اس (کے جسم) پر ہاتھ پھیرتے، اور اس کے لیے دعا کرتے تھے، ایک دن صبح کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر میں کترا گیا، پھر آپ کے پاس اس وقت آیا جب دن چڑھ آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” میں نے تمہیں دیکھا تو تم مجھ سے کترا گئے؟ “ میں نے عرض کیا: میں جنبی تھا، مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں آپ مجھ پر ہاتھ نہ پھیریں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مسلمان ناپاک نہیں ہوتا “ ۱؎۔ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 268]
➋ جنابت، حیض اور بول و براز سے انسان نماز وغیرہ کے قابل نہیں رہتا۔ یہ معنوی پلیدی ہے۔ ظاہراً انسان، خصوصاً مسلمان پاک رہتا ہے۔ مندرجہ بالا حالات میں اس سے ملنا جلنا، اس کے ساتھ کھانا پینا، اس کا ہر قسم کے کام کاج کرنا جائز ہے، کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس کا جوٹھا کھایا پیا جا سکتا ہے۔ وہ کسی چیز میں ہاتھ ڈال دے (مثلاً پانی وغیرہ میں) اور ہاتھ کو ظاہری نجاست بھی نہ لگی ہو تو وہ چیز پاک رہے گی۔ واللہ أعلم۔
کافر کی نجاست بھی اعتقادی اور باطنی نجاست ہے ظاہری طور پر وہ نجس نہیں ہوتا۔