سنن نسائي
كتاب مناسك الحج— کتاب: حج کے احکام و مناسک
بَابُ : مَا يُسْتَحَبُّ أَنْ يَحُجَّ عَنِ الرَّجُلِ، أَكْبَرُ وَلَدِهِ باب: مستحب یہ ہے کہ باپ کی طرف سے بڑا بیٹا حج کرے۔
حدیث نمبر: 2645
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ يُوسُفَ ، عَنْ ابْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لِرَجُلٍ : " أَنْتَ أَكْبَرُ وَلَدِ أَبِيكَ فَحُجَّ عَنْهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا : ” تم اپنے باپ کا بڑے بیٹے ہو تو تم ان کی طرف سے حج کرو “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´مستحب یہ ہے کہ باپ کی طرف سے بڑا بیٹا حج کرے۔`
عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا: ” تم اپنے باپ کا بڑے بیٹے ہو تو تم ان کی طرف سے حج کرو۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2645]
عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا: ” تم اپنے باپ کا بڑے بیٹے ہو تو تم ان کی طرف سے حج کرو۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2645]
اردو حاشہ: (1) حدیث میں مذکور مسئلے کی وضاحت حدیث: 2639 کے فوائد میں گزر چکی ہے۔ وہاں ملاحظہ فرمائیے۔
(2) گزشتہ تیرہ روایات جو حج بدل کے بارے میں ہیں، ان میں کسی جگہ سائل مرد ہے کہیں عورت۔ بعض روایات میں زندہ کے بارے میں سوال ہے، بعض میں میت کے بارے میں۔ کسی روایت میں باپ کا ذکر ہے، کسی میں ماں کا اور کسی میں بہن کا، تاہم جن روایات میں شذوذ تھا اس کی وضاحت کر دی گئی ہے۔ بنا بریں یہ کوئی پریشانی کی بات نہیں کیونکہ ایک ہی مسئلہ کئی اشخاص کو پیش آسکتا ہے۔ خصوصاً، اس لیے کہ حجۃ الوداع میں تمام علاقوں کے لوگ موجود تھے۔ فرضیت کے بعد عملاً یہ پہلا حج تھا۔ عموماً لوگ حج کے مسائل سے واقف نہ تھے، لہٰذا بہت سے لوگوں نے اپنے اپنے حالات کے مطابق سوالات کیے، اس لیے سب روایات اپنی اپنی جگہ صحیح ہیں۔ کوئی اشکال نہیں۔ واللہ أعلم
(2) گزشتہ تیرہ روایات جو حج بدل کے بارے میں ہیں، ان میں کسی جگہ سائل مرد ہے کہیں عورت۔ بعض روایات میں زندہ کے بارے میں سوال ہے، بعض میں میت کے بارے میں۔ کسی روایت میں باپ کا ذکر ہے، کسی میں ماں کا اور کسی میں بہن کا، تاہم جن روایات میں شذوذ تھا اس کی وضاحت کر دی گئی ہے۔ بنا بریں یہ کوئی پریشانی کی بات نہیں کیونکہ ایک ہی مسئلہ کئی اشخاص کو پیش آسکتا ہے۔ خصوصاً، اس لیے کہ حجۃ الوداع میں تمام علاقوں کے لوگ موجود تھے۔ فرضیت کے بعد عملاً یہ پہلا حج تھا۔ عموماً لوگ حج کے مسائل سے واقف نہ تھے، لہٰذا بہت سے لوگوں نے اپنے اپنے حالات کے مطابق سوالات کیے، اس لیے سب روایات اپنی اپنی جگہ صحیح ہیں۔ کوئی اشکال نہیں۔ واللہ أعلم
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2645 سے ماخوذ ہے۔