سنن نسائي
كتاب مناسك الحج— کتاب: حج کے احکام و مناسک
بَابُ : تَشْبِيهِ قَضَاءِ الْحَجِّ بِقَضَاءِ الدَّيْنِ باب: حج کی ادائیگی کو قرض کی ادائیگی سے تشبیہ دینے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ مِنْ خَثْعَمَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ لَا يَسْتَطِيعُ الرُّكُوبَ وَأَدْرَكَتْهُ فَرِيضَةُ اللَّهِ فِي الْحَجِّ فَهَلْ يُجْزِئُ أَنْ أَحُجَّ عَنْهُ ؟ قَالَ آنْتَ أَكْبَرُ وَلَدِهِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَيْهِ دَيْنٌ أَكُنْتَ تَقْضِيه ؟ " قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَحُجَّ عَنْهُ " .
´عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` قبیلہ خثعم کا ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا : میرے والد بہت بوڑھے ہیں وہ سواری پر چڑھ نہیں سکتے ، اور حج کا فریضہ ان پر عائد ہو چکا ہے ، میں ان کی طرف سے حج کر لوں تو کیا وہ ان کی طرف سے ادا ہو جائے گا ؟ آپ نے فرمایا : ” کیا تم ان کے بڑے بیٹے ہو ؟ “ اس نے کہا : جی ہاں ( میں ان کا بڑا بیٹا ہوں ) آپ نے فرمایا : ” تمہارا کیا خیال ہے اگر ان پر قرض ہوتا تو تم اسے ادا کرتے ؟ “ اس نے کہا : ہاں ( میں ادا کرتا ) آپ نے فرمایا : ” تو تم ان کی طرف سے حج ادا کرو “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ قبیلہ خثعم کا ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: میرے والد بہت بوڑھے ہیں وہ سواری پر چڑھ نہیں سکتے، اور حج کا فریضہ ان پر عائد ہو چکا ہے، میں ان کی طرف سے حج کر لوں تو کیا وہ ان کی طرف سے ادا ہو جائے گا؟ آپ نے فرمایا: ” کیا تم ان کے بڑے بیٹے ہو؟ “ اس نے کہا: جی ہاں (میں ان کا بڑا بیٹا ہوں) آپ نے فرمایا: ” تمہارا کیا خیال ہے اگر ان پر قرض ہوتا تو تم اسے ادا کر [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2639]
(2) حج بدل کے لیے یہ ضروری نہیں کہ بڑا بیٹا ہی کرے بلکہ کوئی بیٹا بھی بلکہ بھائی حتیٰ کہ عام قرابت دار بھی حج بدل کر سکتا ہے۔ جیسا کہ اس بارے میں آنے والی دیگر روایات سے صاف معلوم ہوتا ہے۔ (دیگر مباحث کے لیے دیکھیے، روایات: 2633، 2236)