حدیث نمبر: 2631
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَتَّابٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَزْرَةُ بْنُ ثَابِتٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ عَبَّاس : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَابِعُوا بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ ، فَإِنَّهُمَا يَنْفِيَانِ الْفَقْرَ وَالذُّنُوبَ ، كَمَا يَنْفِي الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” حج و عمرہ ایک ساتھ کرو ، کیونکہ یہ دونوں فقر اور گناہ کو اسی طرح دور کرتے ہیں جس طرح بھٹی لوہے کی میل کو دور کر دیتی ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب مناسك الحج / حدیث: 2631
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 6308) (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´حج کے ساتھ عمرہ کرنے کی فضیلت کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حج و عمرہ ایک ساتھ کرو، کیونکہ یہ دونوں فقر اور گناہ کو اسی طرح دور کرتے ہیں جس طرح بھٹی لوہے کی میل کو دور کر دیتی ہے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2631]
اردو حاشہ: (1) پے در پے سے مراد یہ ہے کہ حج کے بعد عمرہ اور عمرے کے بعد حج، یعنی کبھی حج، کبھی عمرہ۔
(2) گناہوں کو زائل کرتے ہیں۔ یعنی ان کا ثواب گناہوں کے اثرات ختم کرتا رہتا ہے۔ یا حج اور عمرے کی برکت سے انسان گناہوں کو چھوڑ دیتا ہے۔ جس قدر زیادہ حج اور عمرے ہوں گے اتنا ہی وہ گناہوں سے زیادہ دور ہوگا۔
(3) فقر دور ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ان عبادات پر کافی رقم خرچ ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ جو شخص میرے راستے میں خرچ کرے گا، میں اسے زیادہ دوں گا۔ اللہ تعالیٰ ایسے شخص کے لیے رزق کے معنوی دروازے کھول دے گا۔ ممکن ہے فقر سے مراد فقر قلب ہو، یعنی حج اور عمرہ پے در پے کرنے سے دل سخی بن جائے گا، دل میں بخل نہیں رہے گا۔ واللہ أعلم
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2631 سے ماخوذ ہے۔