حدیث نمبر: 2609
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِينِي الْعَطَاءَ فَأَقُولُ : أَعْطِهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي ، حَتَّى أَعْطَانِي مَرَّةً مَالًا فَقُلْتُ لَهُ : أَعْطِهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي فَقَالَ : " خُذْهُ فَتَمَوَّلْهُ وَتَصَدَّقْ بِهِ ، وَمَا جَاءَكَ مِنْ هَذَا الْمَالِ وَأَنْتَ غَيْرُ مُشْرِفٍ وَلَا سَائِلٍ فَخُذْهُ ، وَمَا لَا فَلَا تُتْبِعْهُ نَفْسَكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` میں نے عمر رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے عطیہ دیتے تو میں کہتا : آپ اسے اس شخص کو دے دیجئیے جو مجھ سے زیادہ ضرورت مند ہو ۔ یہاں تک کہ ایک بار آپ نے مجھے کچھ مال دیا تو میں نے آپ سے عرض کیا : اسے اس شخص کو دے دیجئیے جو مجھ سے زیادہ اس کا حاجت مند ہو ، تو آپ نے فرمایا : ” تم لے لو ، اور اس کے مالک بن جاؤ ، اور اسے صدقہ کر دو ، اور جو مال تمہیں اس طرح ملے کہ تم نے اسے مانگا نہ ہو اور اس کی لالچ کی ہو تو اسے قبول کر لو ، اور جو اس طرح نہ ملے اس کے پیچھے اپنے آپ کو نہ ڈالو “ ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الزكاة / حدیث: 2609
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الزکاة 51 (1473)، الأحکام 17 (7164)، صحیح مسلم/الزکاة 37 (1045)، تحفة الأشراف: 10520)، مسند احمد (1/21، سنن الدارمی/الزکاة 19 (1688) (صحیح)»