سنن نسائي
كتاب الزكاة— کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل
بَابُ : إِذَا لَمْ يَكُنْ لَهُ دَرَاهِمُ وَكَانَ لَهُ عِدْلُهَا باب: جس شخص کے پاس درہم نہ ہو اس کے برابر سامان ہو۔
حدیث نمبر: 2598
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيٍّ وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِيٍّ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” صدقہ کسی مالدار ، طاقتور اور صحیح سالم شخص کے لیے درست نہیں “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´جس شخص کے پاس درہم نہ ہو اس کے برابر سامان ہو۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” صدقہ کسی مالدار، طاقتور اور صحیح سالم شخص کے لیے درست نہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2598]
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” صدقہ کسی مالدار، طاقتور اور صحیح سالم شخص کے لیے درست نہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2598]
اردو حاشہ: طاقت ور سے مراد وہ ہے جو کمائی کر سکے، نہ کہ پہلوان۔ اور تندرست سے مراد ہے کہ اس کے ہاتھ پاؤں صحیح ہوں، معذور نہ ہو، البتہ ایسا شخص اگر باوجود محنت کے فقیر ہو تو وہ مستحق ہوگا کیونکہ رسول اللہﷺ کا مقصد یہ ہے کہ زکاۃ نکھٹوؤں کے لیے جائز نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2598 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 1839 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´مالدار ہوتے ہوئے (بلا ضرورت) مانگنے پر وارد وعید کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” صدقہ و خیرات کسی مالدار یا ہٹے کٹے صحت مند آدمی کے لیے حلال نہیں ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزكاة/حدیث: 1839]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” صدقہ و خیرات کسی مالدار یا ہٹے کٹے صحت مند آدمی کے لیے حلال نہیں ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الزكاة/حدیث: 1839]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مال دار سے مراد وہ شخص ہے جس کے پاس اتنا کچھ موجود ہو کہ اس کا گزر ہو سکے۔
تعیشات کے حصول کے لیے اگر گنجائش نہیں تو اسے مفلس یا زکاۃ کا مستحق قرار نہیں دیا جا سکتا ہے۔
(2)
طاقت ور سے مراد وہ شخص ہے جو حلال طریقے سے محنت مزدوری یا کسی قسم کی ملازمت وغیرہ کے ذریعے سے روزی کما سکتا ہے۔
ایسا شخص اگر بے کار بیٹھا رہے اور کام کرنے کی کوشش نہ کرے تو یہ اس کی غلطی ہے۔
(3)
تندرست سے مراد وہ شخص ہے جس کو جسمانی طور پر اس قسم کی معذوری لاحق نہیں کہ وہ روزی کمانے کے قابل نہ رہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
مال دار سے مراد وہ شخص ہے جس کے پاس اتنا کچھ موجود ہو کہ اس کا گزر ہو سکے۔
تعیشات کے حصول کے لیے اگر گنجائش نہیں تو اسے مفلس یا زکاۃ کا مستحق قرار نہیں دیا جا سکتا ہے۔
(2)
طاقت ور سے مراد وہ شخص ہے جو حلال طریقے سے محنت مزدوری یا کسی قسم کی ملازمت وغیرہ کے ذریعے سے روزی کما سکتا ہے۔
ایسا شخص اگر بے کار بیٹھا رہے اور کام کرنے کی کوشش نہ کرے تو یہ اس کی غلطی ہے۔
(3)
تندرست سے مراد وہ شخص ہے جس کو جسمانی طور پر اس قسم کی معذوری لاحق نہیں کہ وہ روزی کمانے کے قابل نہ رہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1839 سے ماخوذ ہے۔