حدیث نمبر: 2595
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ شَابُورَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ سَأَلَ وَلَهُ أَرْبَعُونَ دِرْهَمًا فَهُوَ الْمُلْحِفُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس کے پاس چالیس درہم ہوں اور وہ مانگے تو وہ «ملحف» ( چمٹ کر مانگنے والا ) ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الزكاة / حدیث: 2595
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 8699) (حسن صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´چمٹ کر مانگنے والا کون ہے؟`
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے پاس چالیس درہم ہوں اور وہ مانگے تو وہ «ملحف» (چمٹ کر مانگنے والا) ہے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2595]
اردو حاشہ: تشبیہ کا مقصد عدم جواز ہے، یعنی اس کے لیے مانگنا جائز نہیں۔ اس روایت میں چالیس درہم کو غنیٰ کی حد بتلایا گیا ہے۔ یہ اس وقت کے حالات کے مطابق ہے۔ اس میں حالات کے مطابق کمی بیشی ہو سکتی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2595 سے ماخوذ ہے۔