سنن نسائي
كتاب الزكاة— کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل
بَابُ : فَضْلِ مَنْ لاَ يَسْأَلُ النَّاسَ شَيْئًا باب: لوگوں سے کچھ نہ مانگنے والے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2591
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ قَيْسٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ ثَوْبَانَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ يَضْمَنْ لِي وَاحِدَةً وَلَهُ الْجَنَّةُ " , قَالَ يَحْيَى : هَاهُنَا كَلِمَةٌ مَعْنَاهَا " أَنْ لَا يَسْأَلَ النَّاسَ شَيْئًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ثوبان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص مجھے ایک بات کی ضمانت دے تو اس کے لیے جنت ہے “ ( یحییٰ کہتے ہیں : یہاں ایک لفظ تھا جس کا مفہوم یہ ہے کہ ) ” وہ لوگوں سے کچھ نہ مانگے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´لوگوں سے کچھ نہ مانگنے والے کی فضیلت کا بیان۔`
ثوبان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جو شخص مجھے ایک بات کی ضمانت دے تو اس کے لیے جنت ہے " (یحییٰ کہتے ہیں: یہاں ایک لفظ تھا جس کا مفہوم یہ ہے کہ) " وہ لوگوں سے کچھ نہ مانگے۔" [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2591]
ثوبان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جو شخص مجھے ایک بات کی ضمانت دے تو اس کے لیے جنت ہے " (یحییٰ کہتے ہیں: یہاں ایک لفظ تھا جس کا مفہوم یہ ہے کہ) " وہ لوگوں سے کچھ نہ مانگے۔" [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2591]
اردو حاشہ: جنت کا وعدہ معمولی بات نہیں مگر کسی سے کچھ نہ مانگنے کی پابندی بھی بہت مشکل امر ہے۔ اس کے لیے جس حوصلے اور ضبط و توکل کی ضرورت ہے وہ ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ خال خال ہی لوگ ایسے مل سکتے ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2591 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 1643 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´بھیک مانگنے کی کراہت کا بیان۔`
ثوبان رضی اللہ عنہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام تھے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " کون ہے جو مجھے اس بات کی ضمانت دے کہ وہ لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہیں کرے گا اور میں اسے جنت کی ضمانت دوں؟ "، ثوبان نے کہا: میں (ضمانت دیتا ہوں)، چنانچہ وہ کسی سے کوئی چیز نہیں مانگتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1643]
ثوبان رضی اللہ عنہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام تھے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " کون ہے جو مجھے اس بات کی ضمانت دے کہ وہ لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہیں کرے گا اور میں اسے جنت کی ضمانت دوں؟ "، ثوبان نے کہا: میں (ضمانت دیتا ہوں)، چنانچہ وہ کسی سے کوئی چیز نہیں مانگتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1643]
1643. اردو حاشیہ: لوگوں سے نہ مانگنا اپنے وسیع تر معنی میں غیر اللہ نہ مانگنے کو بھی شامل ہے۔جو عین توحید ہے۔اور داخلہ جنت کی ضمانت بھی ادھر ہمارا معاشرہ ہے کہ غیر اللہ سے مانگنے کےلئے جگہ جگہ شرک کے دربار لگے ہیں۔جہاں سادہ لوح لوگوں کی پونجی دائو پر لگتی ہے۔العیاذ باللہ۔ او ر پیشہ ور سوالیوں کو اپنے عمل کی بُرائی اور انجام بد کی خبر ہی نہیں۔ (لاحول ولا قوۃ الا باللہ ]
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1643 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 1837 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´سوال کرنا اور مانگنا مکروہ اور ناپسندیدہ کام ہے۔`
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " کون میری ایک بات قبول کرتا ہے؟ اور میں اس کے لیے جنت کا ذمہ لیتا ہوں "، میں نے عرض کیا: میں قبول کرتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " لوگوں سے کوئی چیز مت مانگو "، چنانچہ ثوبان رضی اللہ عنہ جب سواری پر ہوتے اور ان کا کوڑا نیچے گر جاتا تو کسی سے یوں نہ کہتے کہ میرا کوڑا اٹھا دو، بلکہ خود اتر کر اٹھاتے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزكاة/حدیث: 1837]
ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " کون میری ایک بات قبول کرتا ہے؟ اور میں اس کے لیے جنت کا ذمہ لیتا ہوں "، میں نے عرض کیا: میں قبول کرتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " لوگوں سے کوئی چیز مت مانگو "، چنانچہ ثوبان رضی اللہ عنہ جب سواری پر ہوتے اور ان کا کوڑا نیچے گر جاتا تو کسی سے یوں نہ کہتے کہ میرا کوڑا اٹھا دو، بلکہ خود اتر کر اٹھاتے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزكاة/حدیث: 1837]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
استغناء دخول جنت کا باعث ہے۔
جو کام انسان خود کرسکتا ہو اس کے لیے کسی کی مدد نہ لینا افضل ہے۔
صحابہ کرام ؓ ارشاد نبوی پر زیادہ سے زیادہ ممکن حد تک عمل پیرا رہتے تھے۔
اس حدیث سے حضرت ثوبان کی عظمت اور شان کا اظہار ہوتا ہے کہ انہیں رسول اللہ ﷺ کی زبان مبارک سے جنت کا وعدہ حاصل ہوا۔
فوائد و مسائل:
(1)
استغناء دخول جنت کا باعث ہے۔
جو کام انسان خود کرسکتا ہو اس کے لیے کسی کی مدد نہ لینا افضل ہے۔
صحابہ کرام ؓ ارشاد نبوی پر زیادہ سے زیادہ ممکن حد تک عمل پیرا رہتے تھے۔
اس حدیث سے حضرت ثوبان کی عظمت اور شان کا اظہار ہوتا ہے کہ انہیں رسول اللہ ﷺ کی زبان مبارک سے جنت کا وعدہ حاصل ہوا۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1837 سے ماخوذ ہے۔