سنن نسائي
كتاب الزكاة— کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل
بَابُ : الْمَسْأَلَةِ باب: لوگوں سے مانگنا اور سوال کرنا کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 2587
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي صَفْوَانَ الثَّقَفِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ بِسْطَامَ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَلِيفَةَ ، عَنْ عَائِذِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ فَأَعْطَاهُ ، فَلَمَّا وَضَعَ رِجْلَهُ عَلَى أُسْكُفَّةِ الْبَاب : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ تَعْلَمُونَ مَا فِي الْمَسْأَلَةِ مَا مَشَى أَحَدٌ إِلَى أَحَدٍ يَسْأَلُهُ شَيْئًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عائذ بن عمرو رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اور اس نے آپ سے مانگا تو آپ نے اسے دیا ۔ جب ( وہ لوٹ کر چلا اور ) اس نے اپنا پیر دروازے کے چوکھٹ پر رکھا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اگر تم لوگ جان پاتے کہ بھیک مانگنے میں کیا ( برائی ) ہے تو کوئی کسی کے پاس کچھ بھی مانگنے نہ جاتا “ ۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الزكاة / حدیث: 2587
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: حسن