حدیث نمبر: 2586
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، عَنْ شُعَيْبٍ ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ حَمْزَةَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَسْأَلُ حَتَّى يَأْتِيَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَيْسَ فِي وَجْهِهِ مُزْعَةٌ مِنْ لَحْمٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” آدمی برابر مانگتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ قیامت کے روز ایسی حالت میں آئے گا کہ اس کے چہرے پر کوئی لوتھڑا گوشت نہ ہو گا “ ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الزكاة / حدیث: 2586
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´لوگوں سے مانگنا اور سوال کرنا کیسا ہے؟`
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی برابر مانگتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ قیامت کے روز ایسی حالت میں آئے گا کہ اس کے چہرے پر کوئی لوتھڑا گوشت نہ ہو گا۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2586]
اردو حاشہ: قیامت کی جزا و سزا دنیوی عمل کے مماثل ہوگی۔ اس شخص نے مانگ مانگ کر اپنے چہرے کو ذلیل کیا حتیٰ کہ کسی کے نزدیک بھی اس کی وقعت نہ رہی اور کوئی شخص اسے احترام سے دیکھنا گوارا نہ کرتا تھا۔ قیامت کے دن بھی اس کا چہرہ اس حال میں ہوگا کہ اس کی عزت ہوگی، نہ کوئی اسے دیکھنا گوارا کرے گا۔ أَعَاذَنَا اللّٰہُ، البتہ یہ اس شخص کی سزا ہے جو پیشہ ور بھکاری ہے۔ جو مجبوری اور ضرورت سے مانگے اور لاچار ہو اسے معافی ہوگی۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2586 سے ماخوذ ہے۔