حدیث نمبر: 2584
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلنِّسَاءِ : " تَصَدَّقْنَ وَلَوْ مِنْ حُلِيِّكُنَّ " ، قَالَتْ : وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ خَفِيفَ ذَاتِ الْيَدِ فَقَالَتْ لَهُ : أَيَسَعُنِي أَنْ أَضَعَ صَدَقَتِي فِيكَ وَفِي بَنِي أَخٍ لِي يَتَامَى ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : سَلِي عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَتْ : فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَإِذَا عَلَى بَابِهِ امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهَا زَيْنَبُ تَسْأَلُ عَمَّا أَسْأَلُ عَنْهُ ، فَخَرَجَ إِلَيْنَا بِلَالٌ فَقُلْنَا لَهُ : انْطَلِقْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلْهُ عَنْ ذَلِكَ وَلَا تُخْبِرْهُ مَنْ نَحْنُ ، فَانْطَلَقَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " مَنْ هُمَا ؟ " , قَالَ : زَيْنَبُ , قَالَ : " أَيُّ الزَّيَانِبِ ؟ " , قَالَ : " زَيْنَبُ امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَزَيْنَبُ الْأَنْصَارِيَّةُ , قَالَ : " نَعَمْ لَهُمَا أَجْرَانِ ، أَجْرُ الْقَرَابَةِ ، وَأَجْرُ الصَّدَقَةِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کی بیوی زینب رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے فرمایا : ” تم صدقہ دو اگرچہ اپنے زیوروں ہی سے سہی “ ، وہ کہتی ہیں : عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ( میرے شوہر ) تنگ دست و مفلس تھے ، تو میں نے ان سے پوچھا : کیا میرے لیے یہ گنجائش ہے کہ میں اپنا صدقہ آپ کو اور اپنے یتیم بھتیجوں کو دے دیا کروں ؟ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا : اس بارے میں تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھو ۔ زینب رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی تو کیا دیکھتی ہوں کہ انصار کی ایک عورت اسے بھی زینب ہی کہا جاتا تھا آپ کے دروازے پر کھڑی ہے ، وہ بھی اسی چیز کے بارے میں پوچھنا چاہتی تھی جس کے بارے میں میں پوچھنا چاہتی تھی ۔ اتنے میں بلال رضی اللہ عنہ اندر سے نکل کر ہماری طرف آئے ، تو ہم نے ان سے کہا : آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جائیں ، اور آپ سے اس کے بارے میں پوچھیں ، اور آپ کو یہ نہ بتائیں کہ ہم کون ہیں ، چنانچہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے ( اور آپ سے پوچھا ) آپ نے پوچھا : یہ دونوں کون ہیں ؟ انہوں نے کہا : زینب ، آپ نے فرمایا : کون سی زینب ؟ انہوں نے کہا : ایک زینب تو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی بیوی ، اور ایک زینب انصار میں سے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : ” ہاں ( درست ہے ) انہیں دوہرا ثواب ملے گا ایک رشتہ داری کا اور دوسرا صدقے کا “ ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الزكاة / حدیث: 2584
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الزکاة 48 (1466)، صحیح مسلم/الزکاة 14 (1000)، سنن الترمذی/الزکاة 12 (635، 636)، سنن ابن ماجہ/الزکاة 24 (1834)، (تحفة الأشراف: 15887)، مسند احمد (3/502، و6/363)، سنن الدارمی/الزکاة23 (1661) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 1466 | صحيح مسلم: 1000 | سنن ترمذي: 635

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´رشتہ داروں کو صدقہ دینے کا بیان۔`
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کی بیوی زینب رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے فرمایا: " تم صدقہ دو اگرچہ اپنے زیوروں ہی سے سہی "، وہ کہتی ہیں: عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ (میرے شوہر) تنگ دست و مفلس تھے، تو میں نے ان سے پوچھا: کیا میرے لیے یہ گنجائش ہے کہ میں اپنا صدقہ آپ کو اور اپنے یتیم بھتیجوں کو دے دیا کروں؟ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: اس بارے میں تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھو۔ زینب رضی الل۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2584]
اردو حاشہ: (1) اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ بیوی اپنے خاوند کو زکاۃ دے سکتی ہے اگر وہ فقیر ہے تو، کیونکہ خاوند کے اخراجات کی ذمہ داری بیوی نہیں۔ مگر احناف اسے جائز نہیں سمجھتے، وہ اسے نفلی صدقے پر محمول کرتے ہیں لیکن حدیث کے الفاظ سے اس موقف کی تائید نہیں ہوتی۔ حدیث کے الفاظ عام ہیں جو دونوں قسم کے صدقات (نفلی اور فرضی زکاۃ دونوں) کو شامل ہیں۔
(2) "یہ نہ بتانا کہ ہم کون ہیں؟" یہ ایک روایتی بات تھی ورنہ ممکن نہیں تھا کہ متعلقہ افراد کا تعارف کروائے بغیر سوال کا صحیح جواب لیا جا سکے۔ اسی لیے حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے آپ کے پوچھنے پر فوراً بتا دیا کہ وہ کون ہیں، نیز انھوں نے نہ بتانے کا وعدہ بھی نہیں کیا تھا۔ علاوہ ازیں رسول للہﷺ کا فرمان عورتوں کی گزارش پر مقدم تھا۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2584 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 1466 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
1466. حضرت زینب زو جہ عبد اللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے،انھوں نے کہا:میں مسجد میں تھا کہ نبی کو یہ کہتے ہوئے دیکھا، آپ نے فرمایا:’’عورتو!تم صدقہ کرو اگرچہ زیورات ہی سے کیوں نہ ہو۔‘‘ حضرت زینب ؓ اپنے شوہرعبد اللہ بن مسعود ؓ اور ان یتیم بچوں پر خرچ کرتی تھیں جو ان کی پرورش میں تھے۔ انھوں نے اپنے شوہر عبداللہ بن مسعود سے کہا کہ آپ رسول اللہ ﷺ سے دریافت کریں آیا میرے لیے یہ کافی ہے کہ میں تم پر اور ان یتیم بچوں پر خرچ کروں؟ حضرت عبد اللہ بن مسعود نے فرمایا:تم خود ہی رسول اللہ ﷺ سے اس کے متعلق دریافت کرلو، چنانچہ میں نبی ﷺ کے پاس گئی اور آپ کے دروازے پر ایک انصاریہ عورت کو پایا۔ اس کی حاجت بھی میری حاجت جیسی تھی۔ اتنے میں ہمارے پاس سے حضرت بلال ؓ گزرے تو ہم نے کہا کہ نبی ﷺ سے دریافت کرو، آیا میرے لیے یہ کافی ہے کہ میں اپنے شوہراور ان یتیم بچوں پر خرچ کروں جو۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔)[صحيح بخاري، حديث نمبر:1466]
حدیث حاشیہ: اس حدیث میں صدقہ یعنی خیرات کا لفظ ہے جو فرض صدقہ یعنی زکوٰۃ اور نفل خیرات دونوں کو شامل ہے۔
امام شافعی ؒ اور ثوری ؒ اور صاحبین اور امام مالک ؒ اور امام احمد ؒ سے ایک روایت ایسی ہی ہے اپنے خاوند کو اور بیٹوں کو (بشرطیکہ وہ غریب مسکین ہوں)
دینا درست ہے۔
بعض کہتے ہیں کہ ماں باپ اور بیٹے کو دینا درست نہیں۔
اور امام ابوحنیفہ ؒ کے نزدیک خاوند کو بھی زکوٰۃ دینا درست نہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ان حدیثوں میں صدقہ سے نفل صدقہ مراد ہے۔
(وحیدی)
لیکن خود حضرت امام بخاری ؒ نے یہاں زکوٰۃ فرض کو مراد لیا ہے۔
جس سے ان کا مسلک ظاہر ہے حدیث کے ظاہر الفاظ سے بھی حضرت امام کے خیال ہی کی تائید ہوتی ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1466 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 635 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´زیور کی زکاۃ کا بیان۔`
عبداللہ بن مسعود کی اہلیہ زینب رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے خطاب کیا اور فرمایا: " اے گروہ عورتوں کی جماعت! زکاۃ دو ۱؎ گو اپنے زیورات ہی سے کیوں نہ دو۔ کیونکہ قیامت کے دن جہنم والوں میں تم ہی سب سے زیادہ ہو گی۔‏‏‏‏" [سنن ترمذي/كتاب الزكاة/حدیث: 635]
اردو حاشہ: 1؎: مؤلف نے اس سے فرض صدقہ یعنی زکاۃ مراد لی ہے کیونکہ ((تَصَدَّقْنَ)) امر کا صیغہ ہے اور امر میں اصل وجوب ہے یہی معنی باب کے مناسب ہے، لیکن دوسرے علماء نے اسے استحباب پر محمول کیا ہے اور اس سے مراد نفل صدقات لیے ہیں اس لیے کہ خطاب ان عورتوں کو ہے جو وہاں موجود تھیں اور ان میں ساری ایسی نہیں تھیں کہ جن پر زکاۃ فرض ہوتی، یہ معنی لینے کی صورت میں حدیث باب کے مناسب نہیں ہو گی اور اس سے زیور کی زکاۃ کے وجوب پر استدلال صحیح نہیں ہو گا۔

نوٹ:
(اگلی حدیث (636) سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 635 سے ماخوذ ہے۔