سنن نسائي
كتاب الزكاة— کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل
بَابُ : الإِحْصَاءِ فِي الصَّدَقَةِ باب: گن گن کر صدقہ کرنے کی ممانعت کا بیان۔
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، عَنْ شُعَيْبٍ ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي هِلَالٍ ، عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ هِنْدٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، قَالَ : كُنَّا يَوْمًا فِي الْمَسْجِدِ جُلُوسًا وَنَفَرٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ , وَالْأَنْصَارِ ، فَأَرْسَلْنَا رَجُلًا إِلَى عَائِشَةَ لِيَسْتَأْذِنَ فَدَخَلْنَا عَلَيْهَا , قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيَّ سَائِلٌ مَرَّةً وَعِنْدِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَمَرْتُ لَهُ بِشَيْءٍ ، ثُمَّ دَعَوْتُ بِهِ فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَا تُرِيدِينَ أَنْ لَا يَدْخُلَ بَيْتَكِ شَيْءٌ ، وَلَا يَخْرُجَ إِلَّا بِعِلْمِكِ " , قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : " مَهْلًا يَا عَائِشَةُ لَا تُحْصِي ، فَيُحْصِيَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْكِ " .
´ابوامامہ بن سہل بن حنیف رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` ہم لوگ ایک دن مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے ہمارے ساتھ کچھ مہاجرین و انصار بھی تھے ، ہم نے ایک شخص کو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ملاقات کی اجازت حاصل کرنے کے لیے بھیجا ، ( انہوں نے اجازت دے دی ، ہم ان کے پاس پہنچی تو انہوں نے کہا : ایک بار میرے پاس ایک مانگنے والا آیا اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف فرما تھے ، میں نے ( خادمہ کو ) اسے کچھ دینے کا حکم دیا ، پھر میں نے اسے بلایا اسے دیکھنے لگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا آپ چاہتی ہیں کہ بغیر آپ کے علم میں آئے تمہارے گھر میں کچھ نہ آئے اور تمہارے گھر سے کچھ نہ جائے ؟ “ میں نے کہا : جی ہاں ، آپ نے فرمایا : ” عائشہ ! ٹھہر جاؤ ، گن کر نہ دو کہ اللہ عزوجل بھی تمہیں بھی گن کر دے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابوامامہ بن سہل بن حنیف رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایک دن مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے ہمارے ساتھ کچھ مہاجرین و انصار بھی تھے، ہم نے ایک شخص کو ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ملاقات کی اجازت حاصل کرنے کے لیے بھیجا، (انہوں نے اجازت دے دی، ہم ان کے پاس پہنچی تو انہوں نے کہا: ایک بار میرے پاس ایک مانگنے والا آیا اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف فرما تھے، میں نے (خادمہ کو) اسے کچھ دینے کا حکم دیا، پھر میں نے اسے بلایا اسے۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2550]