سنن نسائي
كتاب الزكاة— کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل
بَابُ : أَىُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ باب: کون سا صدقہ افضل ہے؟
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : أَعْتَقَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عُذْرَةَ عَبْدًا لَهُ عَنْ دُبُرٍ ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " أَلَكَ مَالٌ غَيْرُهُ ؟ " قَالَ : لَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ يَشْتَرِيهِ مِنِّي ؟ " فَاشْتَرَاهُ نُعَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَدَوِيُّ بِثَمَانِ مِائَةِ دِرْهَمٍ ، فَجَاءَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَفَعَهَا إِلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " ابْدَأْ بِنَفْسِكَ فَتَصَدَّقْ عَلَيْهَا ، فَإِنْ فَضَلَ شَيْءٌ فَلِأَهْلِكَ ، فَإِنْ فَضَلَ شَيْءٌ عَنْ أَهْلِكَ ، فَلِذِي قَرَابَتِكَ فَإِنْ فَضَلَ عَنْ ذِي قَرَابَتِكَ شَيْءٌ ، فَهَكَذَا وَهَكَذَا يَقُولُ بَيْنَ يَدَيْكَ وَعَنْ يَمِينِكَ وَعَنْ شِمَالِكَ " .
´جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` بنی عذرہ کے ایک شخص نے اپنے غلام کو مدبر کر دیا ۱؎ ، یہ خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے اس شخص سے پوچھا : ” کیا تمہارے پاس اس غلام کے علاوہ بھی کوئی مال ہے ؟ “ اس نے کہا : نہیں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے مجھ سے کون خرید رہا ہے ؟ “ تو نعیم بن عبداللہ عدوی نے اسے آٹھ سو درہم میں خرید لیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان درہموں کو لے کر آئے اور انہیں اس کے حوالہ کر دیا ، اور فرمایا : ” پہلے خود سے شروع کرو اسے اپنے اوپر صدقہ کرو اگر کچھ بچ رہے تو تمہاری بیوی کے لیے ہے ، اور اگر تمہاری بیوی سے بھی بچ رہے تو تمہارے قرابت داروں کے لیے ہے ، اور اگر تمہارے قرابت داروں سے بھی بچ رہے تو اس طرح اور اس طرح کرو ، اور آپ اپنے سامنے اور اپنے دائیں اور بائیں اشارہ کر رہے تھے “ ۲؎ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ بنی عذرہ کے ایک شخص نے اپنے غلام کو مدبر کر دیا ۱؎، یہ خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے اس شخص سے پوچھا: ” کیا تمہارے پاس اس غلام کے علاوہ بھی کوئی مال ہے؟ “ اس نے کہا: نہیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اسے مجھ سے کون خرید رہا ہے؟ “ تو نعیم بن عبداللہ عدوی نے اسے آٹھ سو درہم میں خرید لیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان درہموں کو لے کر آئے اور انہیں اس کے حوالہ کر دیا، اور فرمایا: ” پہلے خود س۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2547]
(2) مذکورہ شخص کے پاس صرف وہ غلام ہی کل مال تھا۔ ظاہر ہے وصیت ایک تہائی مال سے زائد نہیں ہو سکتی، لہٰذا نبیﷺ نے اس کے عمل تدبیر کو اپنے حکم سے توڑ دیا بلکہ اس غلام کو فروخت کر دیا تاکہ اس شخص کی موت کی صورت میں وہ آزاد نہ ہو سکے۔
(3) ایسے غلام کو بیچنا جائز نہیں ہوتا مگر مخصوص حالات میں (جب تدبیر غلط ہو) اسے فروخت کیا جا سکتا ہے۔ حکومت بیچنے یا وہ شخص خود، مگر اس سے یہ استدلال درست نہیں کہ ہر مدبر کو بیچنا درست ہے۔ تفصیل ان شاء اللہ آگے آئے گی۔
(4) ”آگے اور دائیں بائیں۔“ یعنی جہاں مناسب سمجھے صدقہ کر۔ یہ ایک محاورہ ہے ظاہر الفاظ مراد نہیں۔