سنن نسائي
كتاب الزكاة— کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل
بَابُ : إِذَا تَصَدَّقَ وَهُوَ مُحْتَاجٌ إِلَيْهِ هَلْ يُرَدُّ عَلَيْهِ باب: جب کوئی صدقہ دے اور وہ خود ضرورت مند ہو تو کیا وہ چیز اسے لوٹائی جا سکتی ہے؟
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلَانَ ، عَنْ عِيَاضٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ ، فَقَالَ : " صَلِّ رَكْعَتَيْنِ " ، ثُمَّ جَاءَ الْجُمُعَةَ الثَّانِيَةَ ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ ، فَقَالَ : " صَلِّ رَكْعَتَيْنِ " ، ثُمَّ جَاءَ الْجُمُعَةَ الثَّالِثَةَ ، فَقَالَ : " صَلِّ رَكْعَتَيْنِ " ، ثُمَّ قَالَ : " تَصَدَّقُوا " فَتَصَدَّقُوا ، فَأَعْطَاهُ ثَوْبَيْنِ ، ثُمَّ قَالَ : " تَصَدَّقُوا " فَطَرَحَ أَحَدَ ثَوْبَيْهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَمْ تَرَوْا إِلَى هَذَا أَنَّهُ دَخَلَ الْمَسْجِدَ بِهَيْئَةٍ بَذَّةٍ ، فَرَجَوْتُ أَنْ تَفْطِنُوا لَهُ فَتَتَصَدَّقُوا عَلَيْهِ ، فَلَمْ تَفْعَلُوا ، فَقُلْتُ تَصَدَّقُوا فَتَصَدَّقْتُمْ ، فَأَعْطَيْتُهُ ثَوْبَيْنِ ، ثُمَّ قُلْتُ : تَصَدَّقُوا فَطَرَحَ أَحَدَ ثَوْبَيْهِ ، خُذْ ثَوْبَكَ وَانْتَهَرَهُ " .
´ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` ایک شخص جمعہ کے دن مسجد میں داخل ہوا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے ، تو آپ نے فرمایا : ” تم دو رکعتیں پڑھو “ ، پھر وہ شخص دوسرے جمعہ کو بھی آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے ، تو آپ نے فرمایا : ” تم دو رکعتیں پڑھو “ ، پھر وہ تیسرے جمعہ کو ( بھی ) آیا ، آپ نے فرمایا : ” دو رکعتیں پڑھو “ ، پھر آپ نے لوگوں سے فرمایا : ” صدقہ دو “ ، تو لوگوں نے صدقہ دیا ، تو آپ نے اس شخص کو دو کپڑے دئیے ، پھر آپ نے پھر فرمایا : ” لوگو صدقہ دو “ ، تو اس شخص نے اپنے ان دونوں کپڑوں میں سے ایک کو آپ کے سامنے ڈال دیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم لوگوں نے اس شخص کو نہیں دیکھا ؟ یہ خستہ حالت میں مسجد میں آیا ، میں نے امید کی کہ تم لوگ اسے دیکھ کر اس کی خستہ حالی کو تاڑ لو گے اور اسے صدقہ دو گے ، لیکن تم لوگوں نے ایسا نہیں کیا ، تو مجھ ہی کو کہنا پڑا کہ تم صدقہ دو ، تو تم لوگوں نے صدقہ دیا تو میں نے اسے دو کپڑے دئیے ، پھر لوگوں سے کہا : ” صدقہ دو “ ، تو اس نے ان کپڑوں میں سے ( جو ہم نے اسے دیے تھے ) ایک ( ہمارے آگے ) ڈال دیا ، ( ارے بیوقوف ) تم اپنا کپڑا لے لو ، آپ نے اسے ڈانٹا ۱؎ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص جمعہ کے دن مسجد میں داخل ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے، تو آپ نے فرمایا: ” تم دو رکعتیں پڑھو “، پھر وہ شخص دوسرے جمعہ کو بھی آیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، تو آپ نے فرمایا: ” تم دو رکعتیں پڑھو “، پھر وہ تیسرے جمعہ کو (بھی) آیا، آپ نے فرمایا: ” دو رکعتیں پڑھو “، پھر آپ نے لوگوں سے فرمایا: ” صدقہ دو “، تو لو۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2537]
(2) ”ڈانٹا۔“ معلوم ہوا محتاج کا صدقہ کرنا ضروری نہیں بلکہ اسے روکا جائے گا۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جمعہ کے دن جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، تو ایک آدمی خستہ حالت میں (مسجد میں) آیا اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کیا تم نے نماز پڑھی؟ “ اس نے عرض کیا: نہیں، آپ نے فرمایا: ” دو رکعتیں پڑھ لو “، اور آپ نے (دوران خطبہ) لوگوں کو صدقہ پر ابھارا، لوگوں نے صدقہ میں کپڑے دیئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے دو کپڑے اس شخص کو دیے، پھر جب دوسرا جمعہ آیا تو وہ شخص پھر آیا، اس وقت بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے، آپ نے لوگوں کو پھر صدقہ پر ابھارا، تو اس شخص نے بھی اپنے کپڑوں میں سے ایک کپڑا ڈال دیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” یہ شخص (پچھلے) جمعہ کو بڑی خستہ حالت میں آیا، تو میں نے لوگوں کو صدقے پر ابھارا، تو انہوں نے صدقے میں کپڑے دیئے، میں نے اس میں سے دو کپڑے اس شخص کو دینے کا حکم دیا، اب وہ پھر آیا تو میں نے پھر لوگوں کو صدقے کا حکم دیا تو اس نے بھی اپنے دو کپڑوں میں سے ایک کپڑا صدقہ میں دے دیا “، پھر آپ نے اسے ڈانٹا اور فرمایا: ” اپنا کپڑا اٹھا لو “ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1409]
➋ امام کو اپنے مقتدیوں کے حال احوال کا خیال رکھنا چاہیے۔
➌ جس چیز کی آدمی کو خود شدید ضرورت ہو، اس کا صدقہ نہیں کرنا چاہیے۔
«. . . وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَأَمَرَهُ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ . . .»
”. . . نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن خطبہ دے رہے تھے تو آپ نے اسے دو رکعت پڑھنے کا حکم دیا . . .“ [سنن ترمذي/كتاب الجمعة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم: 511]
↰ اس روایت کو امام ابن خزیمہ [1830] اور امام ابن حبان [2505] رحمہما اللہ نے ”صحیح“ اور امام ترمذی رحمہ اللہ نے ”حسن صحیح“ کہا ہے۔