سنن نسائي
كتاب الزكاة— کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل
بَابُ : تَفْسِيرِ ذَلِكَ باب: صدقہ دینے والی حدیث کی شرح و تفسیر۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَصَدَّقُوا " ، فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ! عِنْدِي دِينَارٌ , قَالَ : " تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى نَفْسِكَ " , قَالَ : عِنْدِي آخَرُ , قَالَ : " تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى زَوْجَتِكَ " , قَالَ : عِنْدِي آخَرُ , قَالَ : " تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى وَلَدِكَ " , قَالَ : عِنْدِي آخَرُ , قَالَ : " تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى خَادِمِكَ " , قَالَ : عِنْدِي آخَرُ , قَالَ : " أَنْتَ أَبْصَرُ " .
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” صدقہ دو “ ، ایک آدمی نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میرے پاس ایک دینار ہے ، آپ نے فرمایا : ” اسے اپنی ذات پر صدقہ کرو “ ۱؎ اس نے کہا : میرے پاس ایک اور ہے ۔ آپ نے فرمایا : ” اپنی بیوی پر صدقہ کرو “ ، اس نے کہا : میرے پاس ایک اور ہے ۔ آپ نے فرمایا : ” اسے اپنے بیٹے پر صدقہ کرو “ ، اس نے کہا : میرے پاس ایک اور بھی ہے ۔ آپ نے فرمایا : ” اپنے خادم پر صدقہ کر دو “ ، اس نے کہا : میرے پاس ایک اور ہے ۔ آپ نے فرمایا : آپ بہتر سمجھنے والے ہیں ( جیسی ضرورت سمجھو ویسا کرو “ ) ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” صدقہ دو “، ایک آدمی نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے پاس ایک دینار ہے، آپ نے فرمایا: ” اسے اپنی ذات پر صدقہ کرو “ ۱؎ اس نے کہا: میرے پاس ایک اور ہے۔ آپ نے فرمایا: ” اپنی بیوی پر صدقہ کرو “، اس نے کہا: میرے پاس ایک اور ہے۔ آپ نے فرمایا: ” اسے اپنے بیٹے پر صدقہ کرو “، اس نے کہا: میرے پاس ایک اور بھی ہے۔ آپ نے فرمایا: ” اپنے خادم پر صدقہ کر دو “، اس نے کہا: میرے پاس [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2536]
(2) بعض احادیث میں اولاد کو بیوی سے پہلے بیان کیا گیا ہے۔ کوئی فرق نہیں کیونکہ دونوں کے اخراجات یکساں واجب ہیں۔
(3) بیان کردہ ترتیب سے معلوم ہوتا ہے کہ جب تک فرض اخراجات پورے نہ ہوں، آگے صدقہ نہیں کرنا چاہیے۔ اول خویش بعد درویش۔ الا یہ کہ اختیار نہ رہے، مثلاً: مہمان گھر آجائے تو گھر والوں کو بھوکا رکھ کر بھی مہمان نوازی کی جا سکتی ہے۔ گویا یہاں اختیاری صدقے کا بیان ہے۔
(4) ”تو زیادہ جانتا ہے۔“ یعنی پھر تیری مرضی۔ جہاں مناسب سمجھتا ہے خرچ کر۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ کا حکم دیا تو ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! میرے پاس ایک دینار ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اسے اپنے کام میں لے آؤ “، تو اس نے کہا: میرے پاس ایک اور ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اسے اپنے بیٹے کو دے دو “، اس نے کہا: میرے پاس ایک اور ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اسے اپنی بیوی کو دے دو “، اس نے کہا: میرے پاس ایک اور ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اسے اپنے خادم کو دے دو “، اس نے کہا میرے پاس ایک اور ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اب تم زیادہ بہتر جانتے ہو (کہ کسے دیا جائے)۔“ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1691]
➋ اوراس ترتیب میں اپنی جان کو اولیت اور اہمیت دی گئی ہے۔کیونکہ انسان کی اپنی صحت عمدہ اور قویٰ بحال ہوں گے۔تودوسروں کے لئے بھی کوئی محنت مشقت کرسکے گا۔
➌ اہل خانہ کو بھی اشارہ ہے۔کہ کسب و مشقت کی بنا پر شوہر اور باپ کو اولیت اوراولویت حاصل ہے۔
➍ اور یہی حکم اس خاتون کا ہوگا۔جس کے کندھوں پر گھر کا یا بچوں کا خرچہ آن پڑا ہو۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” صدقہ و خیرات کرو “ ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ! میرے پاس ایک دینار ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اسے تو اپنی ذات پر خرچ کر “ وہ بولا میرے پاس ایک اور بھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اسے اپنی اولاد پر صدقہ (خرچ) کر۔ “ اس نے پھر عرض کیا میرے پاس ایک اور بھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اسے اپنی اہلیہ پر صدقہ (خرچ) کر “ اس نے پھر عرض کیا میرے پاس ایک اور بھی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اسے اپنے خادم پر صدقہ (خرچ) کر “ وہ بولا حضور صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس ایک اور بھی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اس کے خرچ کرنے کی تجھے زیادہ سمجھ بوجھ ہے۔ “ اسے ابوداؤد اور نسائی نے روایت کیا ہے اور ابن حبان اور حاکم نے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 513]
تَصَدَّقْ بِىہ عَلٰی نَفسِکَ تَصَدَّقْ أَنفِقْ کے معنی میں استعمال ہوا ہے، یعنی اسے اپنی ذات پر خرچ کر۔ صدقے کا لفظ بول کر انفاق مراد لینے سے اس جانب اشارہ کرنا مقصود ہے کہ حقوق والوں پر خرچ کرنا اجر و ثواب میں صدقہ کرنے کے برابر ہے۔
أَنتَ أَبصَر یعنی تجھے زیادہ علم ہے کہ تیرے خرچ کرنے کا کون سا شخص زیادہ مستحق ہے؟ یا اس کا مطلب یہ ہے کہ اب تیری مرضی پر منحصر ہے کہ چاہے تو اسے بھی خرچ کر دے اور چاہے اسے اپنے پاس روک رکھ۔
فائدہ 513:
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کا اپنی ذات پر حدود شرعی کے اندر رہتے ہوے خرچ کرنا بھی صدقہ و خیرات کرنے کی طرح اجروثواب رکھتا ہے۔ ترتیب اس طرح بیان ہوئی ہے کہ پہلے اپنی ذات پر، پھر اولاد پر، پھر بیوی پر اور پھر خادم پر۔ جو بچ جائے اسے اس کی صوابدید پر چھوڑ دیا گیا ہے کہ چاہے تو کسی جگہ خرچ کر دے اور چاہے تو اسے اپنے پاس محفوظ رکھے تاکہ آئندہ کسی کام آئے، لہٰذا ثابت ہوا کہ اہل حقوق کی ترتیب کے اعتبار سے خرچ کرنا واجب ہے تاکہ کسی مستحق کا استحقاق مجروح نہ ہو۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا، اے اللہ کے رسول! میرے پاس ایک دینار ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اپنے آپ پر خرچ کرو۔ “ اس نے عرض کیا میرے پاس ایک اور ہے؟ فرمایا ” اپنی اولاد پر خرچ کرو۔ “ وہ پھر بولا میرے پاس ایک اور ہے۔ فرمایا ” اپنی بیوی پر خرچ کرو۔ “ اس نے عرض کیا میرے پاس اور ہے فرمایا ” اپنے خادم پر خرچ کرو۔ “ وہ بولا میرے پاس اور ہے۔ فرمایا ” تجھے خوب علم ہے کہ تو اسے کہاں خرچ کرے۔ “ اس کی شافعی اور ابوداؤد نے تخریج کی ہے اور یہ الفاظ ابوداؤد کے ہیں اور نسائی اور حاکم نے بھی اس کی تخریج کی ہے۔ اس میں ولد سے پہلے زوجہ کا ذکر ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 985»
«أخرجه أبوداود، باب في صلة الرحم، حديث:1691، والشافعي في مسنده:2 /64، والنسائي، الزكاة، حديث:2536، والحاكم: 1 /415.»
تشریح: اس حدیث میں اس بات کا ذکر ہے کہ مال خرچ کرنے کے مصارف کی ترتیب کیا ہونی چاہیے۔
چنانچہ فرمایا: انسان پر سب سے پہلا حق اس کی اپنی جان کا ہے۔
اس کے بعد اسی ترتیب کے مطابق خرچ کرے جیسے اس حدیث میں ذکر کیا گیا ہے اور آخر میں جو یہ فرمایا: «أَنْتَ أَعْلَمُ» اور ایک دوسری روایت میں «أَنْتَ أَبْصَرُ» بھی ہے‘ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ان مصارف میں خرچ کرنا تو شرعی ترتیب ہے‘ اس کے بعد تو بہتر جانتا ہے کہ کون زیادہ حق دار اور مستحق ہے۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ کس پر خرچ کیا جائے، شریعت نے اس کے بھی مرتبے مقرر کیے ہیں، پہلے اپنے نفس پر، پھر اپنی اولاد پر، پھر اپنے گھر والوں پر، پھر اپنے خادم پر، اگر پھر بھی گنجائش ہوتو پھر جس کو مستحق سمجھے اس کو دے دے، وہ لوگ غلطی پر ہیں جو اپنوں کو بھوکا چھوڑ دیتے ہیں اور دوسروں پر خرچ کرتے ہیں۔