حدیث نمبر: 2533
أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ : أَنْبَأَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ وَهُوَ ابْنُ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ طَارِقٍ الْمُحَارِبِيِّ ، قَالَ : قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ عَلَى الْمِنْبَرِ يَخْطُبُ النَّاسَ وَهُوَ يَقُولُ : " يَدُ الْمُعْطِي الْعُلْيَا ، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ أُمَّكَ وَأَبَاكَ وَأُخْتَكَ وَأَخَاكَ ، ثُمَّ أَدْنَاكَ أَدْنَاكَ مُخْتَصَرٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´طارق محاربی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` ہم مدینہ آئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے خطبہ دے رہے ہیں آپ فرما رہے ہیں : دینے والے کا ہاتھ اوپر والا ہے ، اور پہلے انہیں دو جن کی کفالت و نگہداشت کی ذمہ داری تم پر ہو : پہلے اپنی ماں کو ، پھر اپنے باپ کو ، پھر اپنی بہن کو ، پھر اپنے بھائی کو ، پھر اپنے قریبی کو ، پھر اس کے بعد کے قریبی کو ۔ یہ حدیث ایک لمبی حدیث کا اختصار ہے ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الزكاة / حدیث: 2533
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 4988) (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´اوپر والا ہاتھ کون سا ہے؟`
طارق محاربی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم مدینہ آئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے خطبہ دے رہے ہیں آپ فرما رہے ہیں: دینے والے کا ہاتھ اوپر والا ہے، اور پہلے انہیں دو جن کی کفالت و نگہداشت کی ذمہ داری تم پر ہو: پہلے اپنی ماں کو، پھر اپنے باپ کو، پھر اپنی بہن کو، پھر اپنے بھائی کو، پھر اپنے قریبی کو، پھر اس کے بعد کے قریبی کو۔ یہ حدیث ایک لمبی حدیث کا اختصار ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2533]
اردو حاشہ: عقلاً بھی یہی ترتیب ہے کیونکہ جس کا خرچہ ذمے ہو، اس کا تو حق ہے۔ دنیا میں بھی پرسش ہوگی اور آخرت میں بھی، پھر تعلق، رشتہ داری اور قرب کا لحاظ رکھا جائے گا۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2533 سے ماخوذ ہے۔