سنن نسائي
كتاب الزكاة— کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل
بَابُ : جَهْدِ الْمُقِلِّ باب: کم مال والے کا اپنی محنت کی کمائی سے صدقہ کرنے کے ثواب کا بیان۔
حدیث نمبر: 2529
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عَجْلَانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَبَقَ دِرْهَمٌ مِائَةَ أَلْفٍ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ! وَكَيْفَ ؟ قَالَ : " رَجُلٌ لَهُ دِرْهَمَانِ فَأَخَذَ أَحَدَهُمَا فَتَصَدَّقَ بِهِ ، وَرَجُلٌ لَهُ مَالٌ كَثِيرٌ فَأَخَذَ مِنْ عُرْضِ مَالِهِ مِائَةَ أَلْفٍ فَتَصَدَّقَ بِهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ایک درہم ایک لاکھ درہم سے آگے نکل گیا “ ، لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! یہ کیسے ؟ آپ نے فرمایا : ” ایک شخص کے پاس دو درہم ہیں ، اس نے ان دونوں میں سے ایک لیا اور اسے صدقہ کر دیا ۔ دوسرا وہ آدمی ہے جس کے پاس بہت زیادہ مال ہے ، اس نے اپنے مال ( خزانے ) کے ایک کنارے سے ایک لاکھ درہم نکالے ، اور انہیں صدقہ میں دیدے “ ۔