سنن نسائي
كتاب الزكاة— کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل
بَابُ : الْوَقْتِ الَّذِي يُسْتَحَبُّ أَنْ تُؤَدَّى صَدَقَةُ الْفِطْرِ فِيهِ باب: صدقہ فطر کس وقت ادا کرنا مستحب ہے؟
حدیث نمبر: 2522
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْدَانَ بْنِ عِيسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا مُوسَى . ح وَأَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُوسَى ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِصَدَقَةِ الْفِطْرِ ، أَنْ تُؤَدَّى قَبْلَ خُرُوجِ النَّاسِ إِلَى الصَّلَاةِ " , قَالَ ابْنُ بَزِيعٍ : بِزَكَاةِ الْفِطْرِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ صدقہ فطر نماز کے لیے لوگوں کے نکلنے سے پہلے ادا کر دیا جائے ( ابن بزیع کی روایت میں «بصدقة الفطر» کے بجائے «بزكاة الفطر» ہے ) ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ محمد امین
´صدقہ فطر کس وقت ادا کرنا مستحب ہے؟`
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ صدقہ فطر نماز کے لیے لوگوں کے نکلنے سے پہلے ادا کر دیا جائے (ابن بزیع کی روایت میں «بصدقة الفطر» کے بجائے «بزكاة الفطر» ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2522]
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ صدقہ فطر نماز کے لیے لوگوں کے نکلنے سے پہلے ادا کر دیا جائے (ابن بزیع کی روایت میں «بصدقة الفطر» کے بجائے «بزكاة الفطر» ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2522]
اردو حاشہ: تفصیل کے لیے دیکھیے روایت نمبر 2506۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2522 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 986 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فطرانہ نکالنے کے بارے میں یہ حکم دیا کہ اسے لوگوں کے عید کے لیے نکلنے سے پہلے ادا کیا جائے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:2289]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: صدقۃالفطر کا عید کی نماز سے پہلے نکالنا ضروری ہے اگر بعد میں ادا کرے گا تو وہ صدقۃ الفطر نہیں ہو گا۔
اور آپﷺ کے طرز عمل کا تقاضا یہی ہے کہ ہر جنس سے ایک صاع صدقہ فطر ادا کیا جائے۔
اور آپﷺ کے طرز عمل کا تقاضا یہی ہے کہ ہر جنس سے ایک صاع صدقہ فطر ادا کیا جائے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 986 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 1610 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´صدقہ فطر کب دیا جائے؟`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ صدقہ فطر لوگوں کے نماز کے لیے نکلنے سے پہلے ادا کیا جائے، راوی کہتے ہیں: چنانچہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نماز عید کے ایک یا دو دن پہلے صدقہ فطر ادا کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1610]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ صدقہ فطر لوگوں کے نماز کے لیے نکلنے سے پہلے ادا کیا جائے، راوی کہتے ہیں: چنانچہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نماز عید کے ایک یا دو دن پہلے صدقہ فطر ادا کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1610]
1610. اردو حاشیہ: ➊ اس صدقے کو رسول اللہ ﷺ نے اپنے حکم سے جاری فرمایا تھا۔ جو اس کے واجب ہونے کی دلیل ہے۔جیسے کہ دیگر احادیث میں (فرض) کالفظ آیا ہے۔
➋ صدقہ فطر کا حق یہ ہے کہ نماز عید کےلئے نکلنے سے پہلے پہلے اسے ادا کیاجائے۔
➋ صدقہ فطر کا حق یہ ہے کہ نماز عید کےلئے نکلنے سے پہلے پہلے اسے ادا کیاجائے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1610 سے ماخوذ ہے۔