حدیث نمبر: 2511
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، عَنْ مَخْلَدٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : ذَكَرَ فِي صَدَقَةِ الْفِطْرِ ، قَالَ : " صَاعًا مِنْ بُرٍّ ، أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرِ ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ ، أَوْ صَاعًا مِنْ سُلْتٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابن سیرین کہتے ہیں کہ` ابن عباس رضی اللہ عنہما نے صدقہ فطر کا ذکر کیا ۔ تو کہا : گیہوں سے ایک صاع ، یا کھجور سے ایک صاع ، یا جو سے ایک صاع ، یا سلت ( جَو کی ایک قسم ہے ) سے ایک صاع ہے ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الزكاة / حدیث: 2511
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: شاذ , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 6439) (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´صدقہ فطر ناپنے کے پیمانہ کا بیان۔`
ابن سیرین کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے صدقہ فطر کا ذکر کیا۔ تو کہا: گیہوں سے ایک صاع، یا کھجور سے ایک صاع، یا جو سے ایک صاع، یا سلت (جَو کی ایک قسم ہے) سے ایک صاع ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2511]
اردو حاشہ: سُلْت جو کی ایک قسم ہے جو گندم سے قریب تر ہے، اس حدیث میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے تمام غلہ جات میں صدقہ فطر ایک صاع ہی فرمایا ہے اور یہی افضل ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2511 سے ماخوذ ہے۔