حدیث نمبر: 2509
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ، عَنْ أَبِي عَمَّارٍ الْهَمْدَانِيِّ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : " أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَدَقَةِ الْفِطْرِ قَبْلَ أَنْ تَنْزِلَ الزَّكَاةُ ، فَلَمَّا نَزَلَتِ الزَّكَاةُ لَمْ يَأْمُرْنَا ، وَلَمْ يَنْهَنَا وَنَحْنُ نَفْعَلُهُ " , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : أَبُو عَمَّارٍ اسْمُهُ عَرِيبُ بْنُ حُمَيْدٍ ، وَعَمْرُو بْنُ شُرَحْبِيلَ يُكْنَى أَبَا مَيْسَرَةَ ، وَسَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ خَالَفَ الْحَكَمَ فِي إِسْنَادِهِ وَالْحَكَمُ أَثْبَتُ مِنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´قیس بن سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں زکاۃ کی فرضیت اترنے سے پہلے صدقہ فطر کا حکم دیا تھا ، پھر جب زکاۃ کی فرضیت اتری تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نہ کرنے کا حکم دیا اور نہ ہی روکا ، اور ہم اسے کرتے رہے ۔ ابوعبدالرحمٰن کہتے ہیں : ابوعمار کا نام عریب بن حمید ہے ۔ اور عمرو بن شرحبیل کی کنیت ابومیسرہ ہے ، اور سلمہ بن کہیل نے اپنی سند میں حکم کی مخالفت کی ہے اور حکم سلمہ بن کہیل سے زیادہ ثقہ راوی ہیں ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: یعنی: سند میں عمرو بن شرحبيل ہونا بمقابلہ أبي عمار الهمداني اثبت ہے، حالانکہ اصل راوی عمرو بن شرحبیل بن سعید بن سعد بن عبادہ ہونا زیادہ قرین قیاس ہے، کیونکہ حدیث قیس بن سعد بن عبادہ سے مروی ہے، اور یہ عمرو لین الحدیث ہیں، اور اگر یہ حدیث عمرو بن شرحبیل ابو میسرۃ ہی سے مروی ہو تب بھی یہ صحیحین کی حدیث فرض صدقۃ الفطر کے مخالف ہے، اس لیے شاذ ہے۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الزكاة / حدیث: 2509
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «سنن ابن ماجہ/الزکاة 21 (1828)، (تحفة الأشراف: 11098)، مسند احمد (2/421، 6/6) (شاذ)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 1828

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´زکاۃ کی فرضیت کے اترنے سے پہلے صدقہ فطر کی فرضیت کا بیان۔`
قیس بن سعد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں زکاۃ کی فرضیت اترنے سے پہلے صدقہ فطر کا حکم دیا تھا، پھر جب زکاۃ کی فرضیت اتری تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نہ کرنے کا حکم دیا اور نہ ہی روکا، اور ہم اسے کرتے رہے۔ ابوعبدالرحمٰن کہتے ہیں: ابوعمار کا نام عریب بن حمید ہے۔ اور عمرو بن شرحبیل کی کنیت ابومیسرہ ہے، اور سلمہ بن کہیل نے اپنی سند میں حکم کی مخالفت کی ہے اور حکم سلمہ بن کہیل سے زیادہ ثقہ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2509]
اردو حاشہ: سابقہ روایت میں حضرت حکم نے قاسم بن مخیمرۃ کا استاد عمرو بن شرحبیل بتلایا ہے جبکہ سلمہ بن کہیل نے ابو عمار ہمدانی بتلایا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2509 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 1828 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´صدقہ فطر کا بیان۔`
قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکاۃ کا حکم نازل ہونے سے پہلے ہمیں صدقہ فطر ادا کرنے کا حکم دیا، لیکن جب زکاۃ کا حکم نازل ہو گیا تو نہ تو ہمیں صدقہ فطر دینے کا حکم دیا، اور نہ ہی منع کیا، اور ہم اسے دیتے رہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الزكاة/حدیث: 1828]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اس حدیث سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ صدقہ فطر کی ادائیکی واجب نہیں تاہم رسول اللہ ﷺ کے صدقہ فطر جمع کر کے فقراء میں تقسیم کرنے کے اہتمام سے اندازہ ہوتا ہے کہ زکاۃ کے احام نازل ہونے سے صدقہ فطر کا وجوب منسوخ نہیں ہوا۔

(2)
رسول اللہ ﷺ نے صدقہ فطر کی ادائیکی سے منع نہیں فرمایا، اس سے بھی یہی اشارہ ملتا ہے کہ اس کی مشروعیت منسوخ نہیں ہوئی ورنہ رسول اللہ ﷺ واضح فرما دیتے کہ اب اس کی ادائیگی ضروری نہیں رہی۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1828 سے ماخوذ ہے۔