سنن نسائي
كتاب الزكاة— کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل
بَابُ : مَا يُوجِبُ الْعُشْرَ وَمَا يُوجِبُ نِصْفَ الْعُشْرِ باب: کس غلہ میں دسواں حصہ واجب ہے اور کس میں بیسواں حصہ؟
حدیث نمبر: 2491
أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ سَوَّادِ بْنِ الْأَسْوَدِ بْنِ عَمْرٍو ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو , وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ ، قراءة عليه وأنا أسمع ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ , أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " فِيمَا سَقَتِ السَّمَاءُ ، وَالْأَنْهَارُ ، وَالْعُيُونُ الْعُشْرُ ، وَفِيمَا سُقِيَ بِالسَّانِيَةِ نِصْفُ الْعُشْرِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو پیداوار آسمان کی بارش اور نہروں کے پانی سے ہو اس میں دسواں حصہ زکاۃ ہے ، اور جو پیداوار جانوروں کے ذریعہ سینچائی کر کے ہو اس میں بیسواں حصہ ہے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 981 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپﷺ نے فرمایا: ’’جس (کھیتی) کو دریا کا پانی یا بارش سیراب کرے ان میں عشر (دسواں حصہ) ہے اور جس کو اونٹ (وغیرہ کسی جا نور کے ذریعے) سے سیراب کیا جائے ان میں نصف عشر (بیسواں حصہ) ہے۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:2272]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
(1)
الْأَنْهَارُ: نھر کی جمع ہے۔
نهر یعنی دریا کا پانی۔
(2)
غَيْمُ: بادل، بارش مراد ہے۔
(3)
عُشُورُ: عشر کی جمع ہے دسواں حصہ۔
(4)
سَّانِيَةِ: اونٹ جس سے کنواں سے پانی نکال کر سیراب کیا جاتا ہے۔
فوائد ومسائل: حدیث سے مراد یہ ہےکہ وہ پانی جو قدرتی ہے اس کو خود زمین سے نکالنا نہیں پڑتا، اس پر دسواں حصہ ہے۔
لیکن اس صورت میں جب پیدا وار نصاب یعنی پانچ وسق یا اس سے زائد ہو، اور اگر پانی خودزمین سے نکالا جائے۔
تو چونکہ اس پر محنت ومشقت زیادہ کرنی پڑتی ہے اس لیے اس پر بیسواں حصہ ہے۔
(1)
الْأَنْهَارُ: نھر کی جمع ہے۔
نهر یعنی دریا کا پانی۔
(2)
غَيْمُ: بادل، بارش مراد ہے۔
(3)
عُشُورُ: عشر کی جمع ہے دسواں حصہ۔
(4)
سَّانِيَةِ: اونٹ جس سے کنواں سے پانی نکال کر سیراب کیا جاتا ہے۔
فوائد ومسائل: حدیث سے مراد یہ ہےکہ وہ پانی جو قدرتی ہے اس کو خود زمین سے نکالنا نہیں پڑتا، اس پر دسواں حصہ ہے۔
لیکن اس صورت میں جب پیدا وار نصاب یعنی پانچ وسق یا اس سے زائد ہو، اور اگر پانی خودزمین سے نکالا جائے۔
تو چونکہ اس پر محنت ومشقت زیادہ کرنی پڑتی ہے اس لیے اس پر بیسواں حصہ ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 981 سے ماخوذ ہے۔