مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 2443
أَخْبَرَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ جَامِعِ بْنِ أَبِي رَاشِدٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا مِنْ رَجُلٍ لَهُ مَالٌ لَا يُؤَدِّي حَقَّ مَالِهِ ، إِلَّا جُعِلَ لَهُ طَوْقًا فِي عُنُقِهِ شُجَاعٌ أَقْرَعُ وَهُوَ يَفِرُّ مِنْهُ وَهُوَ يَتْبَعُهُ " ، ثُمَّ قَرَأَ مِصْدَاقَهُ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ : وَلا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ هُوَ خَيْرًا لَهُمْ بَلْ هُوَ شَرٌّ لَهُمْ سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ سورة آل عمران آية 180 " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس شخص کے پاس مال ہو اور وہ اپنے مال کا حق ادا نہ کرے ( یعنی زکاۃ نہ دے ) تو وہ مال ایک گنجے زہریلے سانپ کی شکل میں اس کی گردن کا ہار بنا دیا جائے گا ، وہ اس سے بھاگے گا ، اور وہ ( سانپ ) اس کے ساتھ ہو گا “ ، پھر اس کی تصدیق کے لیے آپ نے قرآن مجید کی یہ آیت پڑھی «ولا تحسبن الذين يبخلون بما آتاهم اللہ من فضله هو خيرا لهم بل هو شر لهم سيطوقون ما بخلوا به يوم القيامة» ” تم یہ مت سمجھو کہ جو لوگ اس مال میں جو اللہ نے انہیں دیا ہے بخیلی کرتے ہیں ان کے حق میں بہتر ہے ، یہ بہت برا ہے ان کے لیے ۔ عنقریب جس مال کے ساتھ انہوں نے بخل کیا ہو گا وہ قیامت کے دن ان کے گلے کا ہار بنا دیا جائے گا “ ( آل عمران : ۱۸ ) ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الزكاة / حدیث: 2443
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 3012 | سنن ابن ماجه: 1784 | مسند الحميدي: 93

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´زکاۃ نہ دینے والوں پر وارد وعید کا بیان۔`
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کے پاس مال ہو اور وہ اپنے مال کا حق ادا نہ کرے (یعنی زکاۃ نہ دے) تو وہ مال ایک گنجے زہریلے سانپ کی شکل میں اس کی گردن کا ہار بنا دیا جائے گا، وہ اس سے بھاگے گا، اور وہ (سانپ) اس کے ساتھ ہو گا ، پھر اس کی تصدیق کے لیے آپ نے قرآن مجید کی یہ آیت پڑھی «ولا تحسبن الذين يبخلون بما آتاهم اللہ من فضله هو خيرا لهم بل هو شر لهم سيطوقون ما بخلوا به يوم القيامة» ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2443]
اردو حاشہ: گنجا سانپ۔ سانپ کے جسم پر توبال ہوتے ہی نہیں، لہٰذا گنجے سے مراد یہ ہے کہ کثرت زہر یا درازی عمر کی وجہ سے اس کے سر پر سے چمڑا تک اڑ چکا ہوگا۔ (النھایة لإبن الأثیر)
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2443 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3012 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´سورۃ آل عمران سے بعض آیات کی تفسیر۔`
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی اپنے مال کی زکاۃ ادا نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی گردن میں ایک سانپ ڈال دے گا ، پھر آپ نے اس کے ثبوت کے لیے قرآن کی یہ آیت «ولا يحسبن الذين يبخلون بما آتاهم الله من فضله» ۱؎ پڑھی راوی نے ایک مرتبہ یہ کہا کہ آپ نے اس کی مناسبت سے یہ آیت «سيطوقون ما بخلوا به يوم القيامة» ۲؎ تلاوت فرمائی، اور فرمایا: جو شخص اپنے مسلمان بھائی کا مال جھوٹی قسم کھا کر لے لے وہ اللہ سے ایسی حالت میں ملے گا کہ اللہ اس سے برہم (اور سخت غصے میں) ہو گا ، پھر آپ ن۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3012]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
’’جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے کچھ دے رکھا ہے وہ اس میں اپنی کنجوسی کو اپنے لئے بہتر خیال نہ کریں بلکہ وہ ان کے لیے نہایت بدتر ہے‘‘ (آل عمران: 180)۔

2؎:
’’عنقریب قیامت والے دن یہ اپنی کنجوسی کی چیز کے طوق ڈالے جائیں گے‘‘ (آل عمران: 180)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3012 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 1784 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´زکاۃ نہ دینے پر وارد وعید کا بیان۔`
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کوئی اپنے مال کی زکاۃ ادا نہیں کرتا اس کا مال قیامت کے دن ایک گنجا سانپ بن کر آئے گا، اور اس کے گلے کا طوق بن جائے گا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ثبوت کے لیے قرآن کی یہ آیت پڑھی: «ولا يحسبن الذين يبخلون بما آتاهم الله من فضله» یعنی اور جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے (کچھ) مال دیا ہے، اور وہ اس میں بخیلی کرتے ہیں، (فرض زکاۃ ادا نہیں کرتے) تو اس بخیلی کو اپنے حق میں بہتر نہ سمجھیں بلکہ بری ہے، ان کے لیے جس (مال) میں انہوں نے بخیلی کی ہے،۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الزكاة/حدیث: 1784]
اردو حاشہ:
فوائدو مسائل: (1)
مال جب نصاب کو پہنچ جائے تو اس کی زکاۃ فرض ہے۔
مجرموں کو قیامت کے دن جہنم میں داخل کیے جانے سے پہلے بھی سزا ملے گی۔
گنجے سانپ سے مراد انتہائی زہریلا سانپ ہے جس کا سر سفید ہو۔
اگر کسی خلاف شریعت کام میں دنیا کا کچھ فائدہ نظر آئے تو اس کے اخروی نقصان کی طرف توجہ کرنی چاہیے تاکہ دنیا کا فائدہ حقیر محسوس ہو اور شریعت پر عمل کرنا آسان ہو جائے۔
ارشادات نبوی قرآن مجید ہی کی تشریح ہیں، اس لیے بعض اوقات رسول اللہ ﷺ اپنے ارشاد مبارک کے ساتھ قرآن مجید کی آیات اور احادیث نبوی بھی پڑھ کر ان کا ترجمہ سنانا چاہیے۔
اس میں جو برکت ہے وہ بزرگوں کی حکایات پر اکتفا کرنے میں نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1784 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 93 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
93- سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: جو بھی شخص اپنے مال کی زکواۃ ادا نہیں کرے گا، تو قیامت کے دن اس کے مل کو اس کے لیے گنجے سانپ کی صورت میں تبدیل کرکے اسے طوق کے طور پر پہنایا جائے گا۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے مصداق کے طور پر اللہ تعالیٰ کی کتاب کی کہ آیت تلاوت کی۔ اور وہ لوگ جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل کے ذریعے عطا کیا ہے اور وہ اس میں بخل کے کام لیتے ہیں ان کے بارے میں تم ہرگز یہ گمان نہ کرو کہ یہ ان کے لیے بہتر ہے، بلکہ یہ ان کے لیے برا ہے، جس چیز کے بارے میں وہ بخل سے کام لیتے ہیں عنقریب قیا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:93]
فائدہ:
وہ مال جو زکاۃ کے نصاب کو پہنچ چکا ہو، اس کی زکاۃ ادا کرنا فرض ہے، ورنہ عذاب الیم ہے۔ فرائض کو ادا کر نے میں کنجوی سے کام لینامنع ہے، بلکہ یہ کنجوسی روز قیامت ذلالت کا سبب ثابت ہوگی۔ جو مال سے محبت کی وجہ سے زکاۃ ادا نہیں کرتا، اس کو سمجھنے میں غلطی لگ گئی ہے، کیونکہ یہ مال نہیں ہے بلکہ یہ تو سانپ ہے جو قیامت کے دن اس کے گلے میں ڈالا جائے گا، استغفر اللہ۔ اس لیے زکاۃ ادا کرنے میں غفلت نہیں برتنی چاہیے، بلکہ خوشی سے وقت پر مکمل ادا کی جائے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 94 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔