حدیث نمبر: 2440
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، عَنْ شُعَيْبٍ ، عَنِ اللَّيْثِ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا خَالِدٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي هِلَالٍ ، عَنْ نُعَيْمٍ الْمُجْمِرِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي صُهَيْبٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَمِنْ أَبِي سَعِيدٍ ، يَقُولَانِ : خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا , فَقَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ " ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، ثُمَّ أَكَبَّ فَأَكَبَّ كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا يَبْكِي ، لَا نَدْرِي عَلَى مَاذَا حَلَفَ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فِي وَجْهِهِ الْبُشْرَى ، فَكَانَتْ أَحَبَّ إِلَيْنَا مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ ، ثُمَّ قَالَ : " مَا مِنْ عَبْدٍ يُصَلِّي الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ ، وَيَصُومُ رَمَضَانَ ، وَيُخْرِجُ الزَّكَاةَ ، وَيَجْتَنِبُ الْكَبَائِرَ السَّبْعَ ، إِلَّا فُتِّحَتْ لَهُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ , فَقِيلَ لَهُ : ادْخُلْ بِسَلَامٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ اور ابوسعید رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک دن خطبہ دیا ۔ آپ نے تین بار فرمایا : ” قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے “ ، پھر آپ نے سر جھکا لیا تو ہم سے ہر شخص سر جھکا کر رونے لگا ، ہم نہیں جان سکے آپ نے کس بات پر قسم کھائی ہے ، پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا ، آپ کے چہرے پر بشارت تھی جو ہمیں سرخ اونٹ پانے کی خوشی سے زیادہ محبوب تھی ، پھر آپ نے فرمایا : ” جو بندہ بھی پانچوں وقت کی نماز پڑھے ، روزے رمضان رکھے ، اور زکاۃ ادا کرے ، اور ساتوں کبائر ۱؎ سے بچے تو اس کے لیے جنت کے دروازے کھول دیے جائیں گے ، اور اس سے کہا جائے گا : سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ “ ۔

وضاحت:
۱؎: ساتوں کبائر یہ ہیں: (۱) شراب پینا (۲) جادو کرنا (۳) ناحق خون بہانا (۴) سود کھانا (۵) یتیم کا مال کھانا (۶) جہاد سے بھاگنا (۷) پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانا۔
حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الزكاة / حدیث: 2440
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 4079، 13509)، مسند احمد 3/79 (ضعیف) (اس کے راوی صہیب عتواری لین الحدیث ہیں)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´زکاۃ کی فرضیت کا بیان۔`
ابوہریرہ اور ابوسعید رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک دن خطبہ دیا۔ آپ نے تین بار فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، پھر آپ نے سر جھکا لیا تو ہم سے ہر شخص سر جھکا کر رونے لگا، ہم نہیں جان سکے آپ نے کس بات پر قسم کھائی ہے، پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا، آپ کے چہرے پر بشارت تھی جو ہمیں سرخ اونٹ پانے کی خوشی سے زیادہ محبوب تھی، پھر آپ نے فرمایا: جو بندہ بھی پانچوں وقت کی نماز پڑھے، روزے رمضان رکھے، اور زکاۃ ا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2440]
اردو حاشہ: (1) رونے لگا۔ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تین دفعہ قسم کھانا موقع کی اہمیت کو ظاہر کرتا تھا۔ اور نیک شخص کی روحانیت کو متاثر کرنے کے لیے اتنا ہی کافی تھا۔
(2) سرخ اونٹوں سے۔ اس ماحول میں عربوں کے نزدیک سرخ اونٹ سب سے زیادہ اہمیت اور قیمت رکھتے تھے، گویا مراد دنیا کی قیمت سے قیمتی چیز ہے، یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشی ہمارے لیے دنیا کی ہر چیز سے اہم تھی۔
(3) سات کبیرہ گناہ۔ شرک، جادو، ناحق قتل، سود خوری، یتیم کا مال کھا جانا، جہاد سے بھاگنا اور پاک دامن مومنہ عورتوں پر تہمت لگانا ہیں۔
(4) جنت کے سب دروازے۔ جنت کے کل دروازے آٹھ ہیں جبکہ جہنم کے سات دروازے ہیں۔
(5) سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جا۔ کیونکہ کبیرہ گناہوں کے اجتناب سے صغیرہ گناہ معاف ہو جاتے ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے۔ ہاں، اگر کبائر سے اجتناب نہ کیا جائے تو صغائر بھی معاف نہیں ہوتے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2440 سے ماخوذ ہے۔