سنن نسائي
كتاب الصيام— کتاب: روزوں کے احکام و مسائل و فضائل
بَابُ : صَوْمِ يَوْمَيْنِ مِنَ الشَّهْرِ باب: مہینہ میں دو دن روزہ رکھنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي سَيْفُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ مِنْ خِيَارِ الْخَلْقِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ ، عَنْ أَبِي نَوْفَلِ بْنِ أَبِي عَقْرَبٍ , عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّوْمِ , فَقَالَ : " صُمْ يَوْمًا مِنَ الشَّهْرِ " ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ! زِدْنِي زِدْنِي , قَالَ : " تَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ! زِدْنِي زِدْنِي ، يَوْمَيْنِ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ " ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ! زِدْنِي زِدْنِي ، إِنِّي أَجِدُنِي قَوِيًّا ، فَقَالَ : " زِدْنِي زِدْنِي أَجِدُنِي قَوِيًّا " ، فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ لَيَرُدُّنِي . قَالَ : " صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ " .
´ابوعقرب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روزے رکھنے کے بارے پوچھا ، تو آپ نے فرمایا : ” مہینہ میں ایک دن رکھ لیا کرو “ ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میرے لیے کچھ بڑھا دیجئیے ، میرے لیے کچھ بڑھا دیجئیے ، آپ نے فرمایا : ” تم کہتے ہو : اللہ کے رسول ! کچھ بڑھا دیجئیے ، کچھ بڑھا دیجئیے ، تو ہر مہینے دو دن رکھ لیا کرو “ ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کچھ اور بڑھا دیجئیے ، کچھ اور بڑھا دیجئیے ، میں اپنے کو طاقتور پاتا ہوں ، اس پر آپ نے میری بات ” کچھ اور بڑھا دیجئیے ، کچھ اور بڑھا دیجئیے میں اپنے آپ کو طاقتور پاتا ہوں “ دہرائی پھر خاموش ہو گئے یہاں تک کہ میں نے خیال کیا کہ اب آپ مجھے لوٹا دیں گے ، پھر آپ نے فرمایا : ” ہر مہینے تین دن رکھ لیا کرو “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابوعقرب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روزے رکھنے کے بارے پوچھا، تو آپ نے فرمایا: " مہینہ میں ایک دن رکھ لیا کرو "، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے لیے کچھ بڑھا دیجئیے، میرے لیے کچھ بڑھا دیجئیے، آپ نے فرمایا: " تم کہتے ہو: اللہ کے رسول! کچھ بڑھا دیجئیے، کچھ بڑھا دیجئیے، تو ہر مہینے دو دن رکھ لیا کرو "، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کچھ اور بڑھا دیجئیے، کچھ اور بڑھا دیجئیے، میں اپنے کو طاقتور پاتا ہوں،۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2435]