حدیث نمبر: 2433
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا حِبَّانُ ، قَالَ : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ أَبِي الْمِنْهَالِ يُحَدِّثُ , عَنْ أَبِيهِ ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُمْ بِصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ الْبِيضِ ، قَالَ : هِيَ صَوْمُ الشَّهْرِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوالمنہال قتادہ بن ملحان رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایام بیض کے تین روزے کا حکم دیا اور فرمایا : ” یہ مہینہ بھر کے روزے کے برابر ہیں “ ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الصيام / حدیث: 2433
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، انظر الحديث السابق (2432) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 339
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 2449 | سنن ابن ماجه: 1707 | سنن نسائي: 2432 | سنن نسائي: 2434

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 2449 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´ہر مہینے تین روزے رکھنے کا بیان۔`
قتادہ بن ملحان قیسی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ایام بیض یعنی تیرھویں، چودھویں اور پندرھویں تاریخوں میں روزے رکھنے کا حکم فرماتے، اور فرماتے: یہ پورے سال روزے رکھنے کے مثل ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2449]
فوائد ومسائل:
تیرہ، چودہ اور پندرہ تاریخ کے ایام کو ایام بیض (سفید راتوں کے دن) اس لحاظ سے کہا جاتا ہے کہ ان راتوں میں چاند تقریبا ساری رات چمکتا ہے۔
ان دنوں کے روزوں میں تفاؤل یہ ہے کہ جس طرح ان راتوں کا اندھیرا اجالے سے بدلا ہوا ہوتا ہے، ایسے ہی اللہ عزوجل روزے دار کی سیاہ کاریوں کو سفیدی اور چمک سے بدل دے گا۔
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم ترغیب و تشویش کے معنی میں ہے۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2449 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 1707 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´ماہانہ تین دن روزے رکھنے کا بیان۔`
منہال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایام بیض کے روزہ کے رکھنے کا حکم دیتے تھے یعنی تیرہویں، چودہویں، اور پندرہویں تاریخ کے روزے کا، اور فرماتے: یہ ہمیشہ روزہ رکھنے کے مثل ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1707]
اردو حاشہ:
فائده:
  مذ کورہ روایت کو ہما رے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے تاہم اس مفہوم کی دوسری احادیث حضرت ابو ذر غفا ری رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت ابن عبا س رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے جنھیں شیخ عبدالقادر ارناؤوط نے جامع الاصول کے حاشیے میں حسن قرار دیا ہے دیکھیے: (جامع الأصول، حدیث: 4474)
 حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث جامع تر ندی اور سنن نسائی میں وارد ہے۔ دیکھیے: (جامع الترمذي، الصوم، باب ماجاء فی الصوم ثلاثة ایام من کل شھر، حدیث: 762، وسنن نسائي، الصوم، باب الذکر الإختلاف علی موسی بن طلحة فی االخیر فی صیام ثلاثة ایام من الشھر، حدیث: 2426)
حضرت عبداللہ ابن عبا س رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی حدیث سنن نسائی میں وارد ہے (کتاب، الصوم، باب صوم النبی ﷺ، حدیث 2347)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1707 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 2434 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے والی حدیث کے سلسلہ میں موسیٰ بن طلحہ پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔`
قدامہ (قتادہ بن ملحان) بن ملحان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں روشن چاندنی راتوں کے دنوں یعنی تیرہویں، چودہویں اور پندرہویں تاریخ کو روزے رکھنے کا حکم دیتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2434]
اردو حاشہ: (1) یہ تینوں روایات ایک ہی صاحب بیان فرماتے ہیں، البتہ ان کے والد کے نام کے بارے میں اختلاف ہے۔ علاوہ ازیں یہ تینوں روایات سنداً ضعیف اور معناً صحیح ہیں۔ شیخ البانی رحمہ اللہ نے مذکورہ تینوں روایات کو حسن قرار دیا ہے۔ دیکھیے: (إرواء الغلیل: 4/ 101،102۔ رقم الحدیث: 947، وصحیح سنن النسائي: 2/ 170، 171 رقم: 2423، 2425، 2425)
(2) حکم ہمیشہ وجوب کے لیے نہیں ہوتا، قرائن ساتھ دیں تو حکم استحباب یا جواز کے لیے بھی ہوتا ہے، جیسے قرآن کریم میں ارشاد ہے: ﴿وَإِذَا حَلَلْتُمْ فَاصْطَادُوا﴾ (المائدة: 5: 2) جب احرام کھول لو تو شکار کرو۔ ﴿فَإِذَا قُضِيَتِ الصَّلاةُ فَانْتَشِرُوا فِي الأرْضِ﴾ (الجمعة:62: 10) جب جمعے کی نماز پڑھ لی جائے تو زمین میں پھیل جاؤ۔ اہل علم میں سے کسی کے نزدیک بھی یہ دونوں کام ضروری نہیں، کوئی بے علم شخص کہہ دے تو الگ بات ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2434 سے ماخوذ ہے۔