حدیث نمبر: 2430
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُعَافَى بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَعْنٍ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَرْنَبٍ ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَدَّ يَدَهُ إِلَيْهَا ، فَقَالَ الَّذِي جَاءَ بِهَا : إِنِّي رَأَيْتُ بِهَا دَمًا ، فَكَفَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ ، وَأَمَرَ الْقَوْمَ أَنْ يَأْكُلُوا ، وَكَانَ فِي الْقَوْمِ رَجُلٌ مُنْتَبِذٌ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا لَكَ " , قَالَ : إِنِّي صَائِمٌ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَهَلَّا ثَلَاثَ الْبِيضِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ ، وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ ، وَخَمْسَ عَشْرَةَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´موسیٰ بن طلحہ سے روایت ہے کہ` ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خرگوش لے کر آیا ، آپ نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ اس کے لانے والے نے کہا : میں نے اس کے ساتھ خون ( حیض ) دیکھا تھا ( یہ سن کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ روک لیا ، اور لوگوں کو حکم دیا کہ وہ کھا لیں ، ایک آدمی لوگوں سے الگ تھلگ بیٹھا ہوا تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا : ” کیا بات ہے ، تم الگ تھلگ کیوں بیٹھے ہو ؟ “ اس نے کہا : میں روزے سے ہوں ، آپ نے فرمایا : ” پھر تم ایام بیض : تیرہویں ، چودہویں اور پندرہویں کو کیوں نہیں رکھتے ؟ “ ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الصيام / حدیث: 2430
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف، إسناده ضعيف، لإرساله موسي بن طلحة رحمه الله تابعي،فالسند مرسل. انوار الصحيفه، صفحه نمبر 339
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف، وانظر حدیث رقم: 2423 (ضعیف) (یہ مرسل روایت ہے)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ محمد امین
´ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے والی حدیث کے سلسلہ میں موسیٰ بن طلحہ پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔`
موسیٰ بن طلحہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خرگوش لے کر آیا، آپ نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ اس کے لانے والے نے کہا: میں نے اس کے ساتھ خون (حیض) دیکھا تھا (یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ روک لیا، اور لوگوں کو حکم دیا کہ وہ کھا لیں، ایک آدمی لوگوں سے الگ تھلگ بیٹھا ہوا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: " کیا بات ہے، تم ا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2430]
اردو حاشہ: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ روک لینا حرمت کی بنا پر نہیں تھا، ورنہ آپ صحابہ کو کھانے کا حکم نہ دیتے۔ طبعاً آپ نے پسند نہ کیا جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کچا لہسن وغیرہ بھی نہیں کھاتے تھے، حالانکہ وہ سب کے نزدیک حلال ہے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2430 سے ماخوذ ہے۔