سنن نسائي
كتاب الصيام— کتاب: روزوں کے احکام و مسائل و فضائل
بَابُ : ذِكْرِ الاِخْتِلاَفِ عَلَى مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ فِي الْخَبَرِ فِي صِيَامِ ثَلاَثَةِ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ باب: ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے والی حدیث کے سلسلہ میں موسیٰ بن طلحہ پر راویوں کے اختلاف کا ذکر۔
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُعَافَى بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَعْنٍ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَرْنَبٍ ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَدَّ يَدَهُ إِلَيْهَا ، فَقَالَ الَّذِي جَاءَ بِهَا : إِنِّي رَأَيْتُ بِهَا دَمًا ، فَكَفَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ ، وَأَمَرَ الْقَوْمَ أَنْ يَأْكُلُوا ، وَكَانَ فِي الْقَوْمِ رَجُلٌ مُنْتَبِذٌ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا لَكَ " , قَالَ : إِنِّي صَائِمٌ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَهَلَّا ثَلَاثَ الْبِيضِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ ، وَأَرْبَعَ عَشْرَةَ ، وَخَمْسَ عَشْرَةَ " .
´موسیٰ بن طلحہ سے روایت ہے کہ` ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خرگوش لے کر آیا ، آپ نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ اس کے لانے والے نے کہا : میں نے اس کے ساتھ خون ( حیض ) دیکھا تھا ( یہ سن کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ روک لیا ، اور لوگوں کو حکم دیا کہ وہ کھا لیں ، ایک آدمی لوگوں سے الگ تھلگ بیٹھا ہوا تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا : ” کیا بات ہے ، تم الگ تھلگ کیوں بیٹھے ہو ؟ “ اس نے کہا : میں روزے سے ہوں ، آپ نے فرمایا : ” پھر تم ایام بیض : تیرہویں ، چودہویں اور پندرہویں کو کیوں نہیں رکھتے ؟ “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موسیٰ بن طلحہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خرگوش لے کر آیا، آپ نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ اس کے لانے والے نے کہا: میں نے اس کے ساتھ خون (حیض) دیکھا تھا (یہ سن کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ روک لیا، اور لوگوں کو حکم دیا کہ وہ کھا لیں، ایک آدمی لوگوں سے الگ تھلگ بیٹھا ہوا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: " کیا بات ہے، تم ا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2430]