حدیث نمبر: 2417
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ تَمِيمٍ ، عَنْ زُهَيْرٍ ، عَنِ الْحُرِّ بْنِ الصَّيَّاحِ ، قَالَ : سَمِعْتُ هُنَيْدَةَ الْخُزَاعِيَّ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ سَمِعْتُهَا , تَقُولُ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ، أَوَّلَ اثْنَيْنِ مِنَ الشَّهْرِ ، ثُمَّ الْخَمِيسَ ، ثُمَّ الْخَمِيسَ الَّذِي يَلِيهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ہنیدہ خزاعی کہتے ہیں کہ` میں ام المؤمنین کے پاس آیا ، اور میں نے انہیں کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہینے تین دن روزہ رکھتے تھے ۔ مہینے کے پہلے کہ دوشنبہ ( پیر ) کو ، پھر جمعرات کو ، پھر اس کے بعد کے آنے والے جمعرات کو ۔

حوالہ حدیث سنن نسائي / كتاب الصيام / حدیث: 2417
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث «تفرد بہ النسائي، (تحفة الأشراف: 15814) (صحیح) (شواہد اور متابعات سے تقویت پاکر یہ روایت بھی صحیح لغیرہ ہے، ورنہ اس کی سند میں بڑا اضطراب ہے)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 1160 | سنن ترمذي: 746 | سنن ترمذي: 763 | سنن ابن ماجه: 1709

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1160 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
معاذہ عددیہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر ماہ تین روزے رکھتے تھے؟ انھوں نے جواب دیا: ہاں تو میں نے پوچھا مہینے کے کن دنوں میں کن تاریخوں میں روزہ رکھتے تھے؟ انھوں نے جواب دیا اس کی فکر واہتمام نہیں فرماتے تھے مہینہ کے کن دنوں میں روزہ رکھیں یعنی جن دنوں چاہتے ر وزہ رکھ لیتے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:2744]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معین اور مستقل دستور نہ تھا لیکن آپ ساتھیوں کو ایام ابیض 13۔
14۔
15۔
تاریخ کے روزہ رکھنے کی تلقین کرتے تھے اس لیے اگرصرف تین روزے رکھتے ہوں تو یہی افضل ہیں۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2744 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 746 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´سوموار (دوشنبہ) اور جمعرات کے دن روزہ رکھنے کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مہینہ ہفتہ (سنیچر)، اتوار اور سوموار (دوشنبہ) کو اور دوسرے مہینہ منگل، بدھ، اور جمعرات کو روزہ رکھتے تھے۔ [سنن ترمذي/كتاب الصيام/حدیث: 746]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں خیثمہ بن ابی خیثمہ ابو نصر بصری لین الحدیث ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 746 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 1709 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´ماہانہ تین دن روزے رکھنے کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہینہ میں تین دن روزہ رکھتے تھے، معاذہ عدویہ کہتی ہیں: میں نے پوچھا: کون سے تین دنوں میں؟ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم پروا نہیں کرتے تھے جو بھی تین دن ہوں۔‏‏‏‏" [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1709]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
  اس سے معلو م ہوا کہ مہینے کے درمیانی ایام کے علاوہ بھی کوئی سے تین دن روزے رکھے جا سکتے ہیں کیونکہ نبی ﷺ بعض اوقا ت بلا تعیین و تخصیص تین روزے رکھا کرتے تھے تا کہ وجوب نہ سمجھا جائے اس طرح آ پ بعض دفعہ مہینے کی ابتدا میں تین روزے رکھتے چنانچہ جن صحا بہ کے علم میں آپ کے یہی ابتدائی دن آئے انھوں نے اس کے مطابق بیان کر دیا اس لئے ان دونو ں یعنی ایا م بیض اور ابتدائی ایا م میں روزے رکھنے میں کوئی منافات نہیں۔
تاہم افضل یہی ہے کہ ایام بیض کے 3 روزے رکھے جائیں کیونکہ نبی ﷺ نے اس کا حکم دیا ہے جیسا کہ حدیث نمبر 1707میں گزر چکا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1709 سے ماخوذ ہے۔